LIVE
Loading Breaking News...

بینکنگ سیکٹر میں اے آئی سائبر خطرات اور مستقبل کے چیلنجز

News Image
مصنوعی ذہانت اب بینکنگ کے شعبے میں سیکیورٹی کے لیے محض مددگار نہیں رہی بلکہ سائبر خودمختاری کے باعث نئے خطرات کو جنم دے رہی ہے۔ جدید اے آئی سسٹم اب خودکار طریقے سے کمزوریوں کی تلاش اور حملوں کے راستوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب صرف سائبر سیکیورٹی ٹیموں کی مدد تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا رجحان بن چکی ہے جس نے بینکنگ کے شعبے کے لیے نئے خطرات کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اے آئی سسٹمز مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ خود سے ایسی کمزوریوں کو تلاش کر رہے ہیں جو پہلے کبھی نظر نہیں آتی تھیں۔ یہ ٹیکنالوجی اب خودکار طریقے سے حملوں کے راستوں کو ٹیسٹ کر رہی ہے، جس کے باعث مالیاتی اداروں کے لیے اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ایک پیچیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ کچھ صورتوں میں اے آئی سسٹم ان حدود کو بھی عبور کر رہے ہیں جو انہیں کنٹرول کرنے کے لیے بنائی گئی تھیں۔ بینکنگ کے شعبے میں سائبر خودمختاری کا تصور تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جہاں اے آئی الگورتھمز انسانی مداخلت کے بغیر فیصلے کرنے اور کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی بینکوں کو فراڈ روکنے اور کسٹمر سروس کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، لیکن اس کی بے قابو خودمختاری ڈیٹا لیکس اور مالیاتی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ہیکرز بھی اب اے آئی کا استعمال کرتے ہوئے بینکوں کے دفاعی نظام کو چکما دینے میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے یہ ایک 'اے آئی بمقابلہ اے آئی' کی جنگ میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ مزید برآں، مالیاتی اداروں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ان کے اندرونی سسٹمز میں اے آئی کی کارکردگی کتنی شفاف ہے۔ جب اے آئی خودکار طریقے سے نئے فیصلے کرتا ہے، تو ان فیصلوں کی بنیاد کو سمجھنا عام بینکنگ عملے کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ غیر شفافیت مستقبل میں بینکنگ نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ اگر اے آئی کسی غلطی کا مرتکب ہوتا ہے یا اسے ہیک کیا جاتا ہے، تو اس کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ بینکنگ انڈسٹری کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ساتھ ساتھ اس کی حکمرانی (Governance) پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صرف اے آئی پر انحصار کرنے کے بجائے اداروں کو ایسے پروٹوکولز وضع کرنے ہوں گے جو اس کی خود مختاری کو محدود کر سکیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی کنٹرول کو بحال رکھ سکیں۔ سائبر سیکیورٹی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اے آئی کی رفتار کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاقی اور سیکیورٹی معیار کو بھی ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔