World
مشرقِ وسطیٰ کا نیا دفاعی اتحاد: حقیقت یا خواب
مشرقی وسطیٰ کے ممالک اپنے اقتصادی اثر و رسوخ کے بعد اب ایک مشترکہ دفاعی ڈھانچے کی تشکیل پر غور کر رہے ہیں۔ اس مجوزہ اتحاد کا مقصد خطے میں سیکورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران خلیجی ریاستوں نے اپنے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کا دانشمندی سے استعمال کرتے ہوئے اپنی معیشتوں کو عالمی سطح کے مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔ ان ممالک نے نہ صرف جدید شہر تعمیر کیے ہیں بلکہ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے میں بھی خطیر سرمایہ کاری کی ہے۔ اب یہ ممالک اقتصادی استحکام کے بعد اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مربوط کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں، جس سے یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا مشرقِ وسطیٰ میں 'نیٹو' کی طرز کا کوئی دفاعی اتحاد ممکن ہے۔ اس طرح کے کسی اتحاد کا مقصد خطے کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنا اور داخلی سیکورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔
ماہرینِ سیاسیات کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سیکورٹی کے مسائل پیچیدہ ہیں اور مختلف ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور خطے میں جاری کشیدگی نے خلیجی ممالک کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ باہمی تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔ نیٹو کی طرز پر ایک اتحاد کا تصور اگرچہ بہت پرکشش ہے، مگر اس کے عملی نفاذ میں سیاسی اختلافات اور سفارتی رکاوٹیں سب سے بڑی دیوار بنی ہوئی ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستیں ایک طویل عرصے سے اپنے دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کر رہی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ بڑے سیکورٹی معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے تیار ہیں۔
مزید برآں، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اب مغرب پر انحصار کرنے کے بجائے خود کفالت کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ اپنی دفاعی صنعتوں کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ، یہ ممالک آپس میں انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ فوجی مشقیں بھی کر رہے ہیں جو کہ ایک بڑے دفاعی اتحاد کی پہلی سیڑھی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ ممالک واقعی ایک متحد دفاعی بلاک بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ عالمی طاقت کے توازن کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف خطے میں استحکام آئے گا بلکہ یہ عالمی سیاست میں خلیجی ممالک کی حیثیت کو مزید مستحکم کرے گا، جس سے بین الاقوامی تعلقات کی نئی تعریف طے ہوگی۔