LIVE
Loading Breaking News...

مکّہ دفاعی معاہدہ: سعودی، ترکی اور پاکستان کا اہم اقدام

News Image
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امن اور ذمہ داری کے احساس کا مظہر قرار دیا گیا ہے۔ اس اہم دفاعی اتحاد کا مقصد کسی بھی ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ باہمی سلامتی کو فروغ دینا ہے۔
ریاض: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین طے پانے والے تاریخی 'مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ' کے حوالے سے اہم سفارتی بیانات سامنے آئے ہیں۔ سعودی مندوب کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی یا جارحانہ عزائم پر مبنی نہیں ہے، بلکہ یہ خطے میں امن، استحکام اور ذمہ داری کے گہرے احساس کی ترجمانی کرتا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات میں اس معاہدے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی اس معاہدے کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جس سے اس عزم کو تقویت ملتی ہے کہ تینوں برادر اسلامی ممالک دفاعی اور اسٹریٹجک امور میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی سیکیورٹی کی ضمانتوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے سوالات کے تناظر میں یہ معاہدہ خطے کے دفاعی توازن میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اس معاہدے کے تحت سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی مشترکہ فوجی صلاحیتیں اور عسکری تجربات ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہوں گے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ تینوں ممالک کی مسلح افواج کی مشترکہ طاقت خطے میں کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور قابل اعتماد ڈھانچہ فراہم کرے گی۔ اس سے نہ صرف باہمی تعاون کو فروغ ملے گا بلکہ دہشت گردی اور دیگر سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ سفارتی حلقوں میں اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ نہ صرف تینوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات کا مظہر ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک اپنے دفاع اور سلامتی کے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے تحت مشترکہ مشقوں اور عسکری نوعیت کے دیگر اقدامات کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، جس سے خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔