LIVE
Loading Breaking News...

ایرلنگ ہالینڈ کے نام سے کوکین کی سمگلنگ: ایکواڈور میں بڑی کارروائی

News Image
ایکواڈور کی پولیس نے منشیات کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے دوران کوکین کی اینٹوں پر فٹبال اسٹار ایرلنگ ہالینڈ کا نام اور تصویر برآمد کی ہے۔ حکام نے قبضے میں لی گئی منشیات کا وزن آدھا ٹن بتایا ہے جس پر مشہور فٹبالر کی برانڈنگ موجود تھی۔
ایکواڈور کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منشیات کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے حیران کن انکشاف کیا ہے جس میں مشہور فٹبالر ایرلنگ ہالینڈ کے نام اور تصویر کا استعمال کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکواڈور کی پولیس نے ایک چھاپے کے دوران نصف ٹن یعنی پانچ سو کلو گرام کوکین کی کھیپ برآمد کی ہے، جس کی پیکنگ پر فٹبال کی دنیا کے معروف اسٹار ایرلنگ ہالینڈ کا نام اور ان کی تصویریں نمایاں طور پر چھپی ہوئی تھیں۔ حکام نے اسے منشیات سمگلنگ کا ایک نیا اور عجیب و غریب طریقہ قرار دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ منشیات چھوٹی اینٹوں کی شکل میں بند تھی اور ہر پیکٹ پر فٹبالر کی برانڈنگ کی گئی تھی تاکہ اسے ایک خاص نشان کے طور پر مارکیٹ میں پہچانا جا سکے۔ اگرچہ منشیات کی پیکنگ پر مشہور شخصیات کے نام یا لوگو لگانا کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم دنیا کے مقبول ترین فٹبالرز میں سے ایک کا نام استعمال کرنا بین الاقوامی میڈیا میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس برآمدگی کے بعد ایکواڈور کی پولیس نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی اور اس کا نیٹ ورک کن افراد کے ہاتھ میں ہے۔ واضح رہے کہ ایکواڈور طویل عرصے سے لاطینی امریکہ میں منشیات کی سمگلنگ کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سے منشیات کو براعظم یورپ اور دیگر ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔ اس واقعے نے اس بحث کو بھی جنم دیا ہے کہ منشیات فروش کس طرح اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور شناخت کے لیے مشہور شخصیات کی شہرت کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ایرلنگ ہالینڈ کے نام کے غلط استعمال پر تاحال فٹبالر یا ان کی انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن یہ واقعہ بین الاقوامی کرائم نیٹ ورکس کی جانب سے برانڈنگ کے جدید طریقوں کو ظاہر کرتا ہے۔ حکام نے ضبط کی گئی منشیات کو تلف کرنے کے لیے ضابطہ کار شروع کر دیا ہے جبکہ اس معاملے میں ملوث مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس بڑی کارروائی نے ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ ایکواڈور میں منشیات کا کاروبار ایک سنگین چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے مقامی پولیس کو مسلسل سخت اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں۔