LIVE
Loading Breaking News...

نیتن یاہو کا دورہ امریکہ اور اہم سیاسی ایجنڈا

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم کا دورہ امریکہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں چھاپے جاری ہیں۔ یہ اہم دورہ ستائیس اکتوبر کے انتخابات سے بالکل قبل عمل میں آیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا دورہ واشنگٹن اور وائٹ ہاؤس سفارتی اور سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے چھاپوں اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔ تجزیہ کار اس دورے کو موجودہ حالات میں خطے کے سکیورٹی منظر نامے کے تناظر میں نہایت اہم قرار دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دورہ ستائیس اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے ٹھیک پہلے ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کے اندرونی اور بیرونی سیاسی اثرات بھی گہرے مرتب ہونے کا امکان ہے۔ نیتن یاہو کے اس دورے کا مقصد واشنگٹن کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کرنا ہے۔ دوسری طرف، بین الاقوامی سطح پر اس دورے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ انتخابی مہم اور سیاسی بقا کے اس نازک موڑ پر یہ دورہ نیتن یاہو کے لیے اندرون ملک اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا ایک بڑا موقع بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس ملاقات کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں اور اس کا خطے کی سیاست پر کیا اثر پڑتا ہے، اس کا اندازہ الیکشن کے بعد ہی لگایا جا سکے گا، تاہم فی الحال یہ موضوع عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔