LIVE
Loading Breaking News...

پولیو کا دوبارہ خطرہ: ویکسینیشن بند ہوئی تو مرض واپس آ جائے گا

News Image
روٹری انٹرنیشنل کے صدر انکا بابالولا نے خبردار کیا ہے کہ پولیو کے خاتمے کے لیے جاری ویکسینیشن مہم کو روکنا انسانیت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسداد پولیو کی کوششیں بند کی گئیں تو ایک دہائی کے اندر یہ موذی مرض دوبارہ وبائی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
روٹری انٹرنیشنل کے صدر انکا بابالولا نے عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر دنیا بھر میں پولیو کے تدارک کے لیے جاری ویکسینیشن مہم کو روک دیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور یہ موذی مرض محض دس سال کے قلیل عرصے میں ایک بار پھر دنیا بھر میں وبائی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ بابالولا کے مطابق پولیو وائرس کے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف لڑائی میں کسی بھی قسم کی غفلت یا لاپرواہی پوری نسل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ روٹری انٹرنیشنل برسوں سے پولیو کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر موجود ہے اور اس ادارے نے دنیا کے کئی خطوں کو اس وائرس سے پاک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ صدر انکا بابالولا کا ماننا ہے کہ پولیو کا مکمل خاتمہ صرف ویکسینیشن کے تسلسل سے ہی ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں جہاں ویکسینیشن کی کوریج میں کمی آتی ہے، وہاں وہاں وائرس کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر بچہ پولیو کے قطرے پیے تاکہ اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ ماہرین صحت بھی اس رائے کی تائید کرتے ہیں کہ پولیو ایک ایسا متعدی مرض ہے جو اگر کسی بھی آبادی میں دوبارہ داخل ہو جائے تو بہت تیزی سے پھیلتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بچوں کی قوت مدافعت کمزور ہو۔ روٹری کے صدر نے زور دیا کہ پولیو کے خاتمے کے مشن کو صرف ایک طبی مہم نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں اور عطیہ دہندگان پر زور دیا کہ وہ پولیو کے خاتمے کے لیے درکار فنڈز اور وسائل کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑیں کیونکہ کسی بھی قسم کی مالی یا انتظامی رکاوٹ وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ آخر میں، انکا بابالولا نے والدین اور کمیونٹی کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے قطرے پلانے سے متعلق پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ پولیو کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں اس معذور کر دینے والے مرض سے محفوظ رہیں تو ہمیں ویکسینیشن کے عمل کو ہر صورت جاری رکھنا ہوگا۔ روٹری کا عزم ہے کہ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک دنیا سے پولیو کا آخری کیس بھی ختم نہیں ہو جاتا۔