LIVE
Loading Breaking News...

نائجیریا میں غیر ملکی سرمایہ کاری: 100 ارب ڈالر کا تاریخی ہدف

News Image
نائجیریا کی حکومت نے ابوظہبی میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل انویسٹرز سمٹ کے ذریعے 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے معاہدے حاصل کرنے کا عزم کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مقامی ترقیاتی منصوبوں کو عالمی سرمایہ کاروں سے منسلک کرکے ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
نائجیریا کی حکومت نے معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم ہدف مقرر کر دیا ہے۔ ابوظہبی میں منعقد ہونے والی 'انٹرنیشنل انویسٹرز سمٹ نائجیریا 2026' کا مقصد 100 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کرنا ہے۔ اس کانفرنس کو نائجیریا کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں حکومت مقامی سطح کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو عالمی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے ایک ٹھوس حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس کانفرنس سے نائجیریا کی معیشت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی ایک نئی لہر آئے گی جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس سمٹ کے ذریعے نائجیریا حکومت ایسے شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے جو ملکی برآمدات اور خود انحصاری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان شعبوں میں توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہیں۔ نائجیریا کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں وسیع قدرتی وسائل اور نوجوان افرادی قوت موجود ہے، جسے صحیح طریقے سے عالمی منڈی تک رسائی دینے کی ضرورت ہے۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے سرمایہ کاروں کو مدعو کیا گیا ہے تاکہ وہ نائجیریا کی بدلتی ہوئی معاشی پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول سے استفادہ کر سکیں۔ دوسری جانب ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ 100 ارب ڈالر کا ہدف انتہائی بلند ہے، تاہم نائجیریا کی موجودہ اقتصادی اصلاحات اور پالیسیوں میں شفافیت کو فروغ دینے سے یہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہے۔ حکومت نے سرمایہ کاروں کو مراعات دینے اور کاروباری آسانی (Ease of Doing Business) کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے۔ سمٹ کے دوران مختلف شعبوں میں کئی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں، جو طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کی راہ ہموار کریں گے۔ نائجیریا کا یہ اقدام خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے کہ کس طرح منظم سفارت کاری اور اقتصادی رابطوں کے ذریعے ملک کو عالمی سطح پر ایک اہم مرکز بنایا جا سکتا ہے۔