World
اتر پردیش میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی مسماری اور تعلیمی بحران
بھارت کی بی جے پی کے زیر تسلط ریاست اتر پردیش میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی بیشتر عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے کر انہی گرانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام سے ہزاروں طلباء کا تعلیمی مستقبل شدید خطرے میں پڑ گیا ہے جسے فکری آزادی پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت میں اقلیتوں اور ان کے تعلیمی اداروں کے خلاف مبینہ کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کی تازہ مثال ریاست اتر پردیش میں سامنے آئی ہے۔ حکام نے بی جے پی کی حکومت والی ریاست میں معروف مسلم رہنما کی جانب سے قائم کردہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس ادارے کی کل چالیس عمارتوں میں سے اڑتیس عمارات غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہیں۔ اس اعلان کے بعد یونیورسٹی کے انہدام کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس نے مقامی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انتظامیہ اور ماہرین تعلیم کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے کے مترادف ہیں بلکہ اس سے اقلیتی طبقے کے بنیادی حقوق کو بھی کچلا جا رہا ہے۔ اس یونیورسٹی کی بنیاد معروف سیاسی اور مسلم رہنما نے رکھی تھی تاکہ پسماندہ علاقوں اور بالخصوص مسلم نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ گزشتہ کچھ سالوں سے اس ادارے کو مختلف قانونی اور انتظامی مشکلات کا سامنا تھا، تاہم حالیہ احکامات کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ یونیورسٹی سے وابستہ اساتذہ، طلباء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہزاروں طلباء کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے جو اس یونیورسٹی میں حصول علم کے لیے دور دراز علاقوں سے آئے تھے۔ تعلیمی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر سیاسی بنیادوں پر اس طرح تعلیمی ادارے مسمار کیے جاتے رہے تو ملک میں علم و فروغ کا عمل شدید متاثر ہوگا۔ دوسری جانب حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائی قانون کی بالادستی اور ضابطے کے تحت کی جا رہی ہے، تاہم متاثرہ فریق اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے انصاف کا قتل قرار دے رہی ہیں اور فوری طور پر اس انہدام کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔