Politics
ایبونی سینٹرل: پروفیسر بینارڈ اوڈوہ کا شمولیت پسندانہ حکمرانی کا وعدہ
ایبونی سینٹرل سے سینیٹ کے امیدوار پروفیسر بینارڈ اوڈوہ نے انتخابی مہم کے دوران شمولیت پسندانہ حکمرانی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی ترقی کے لیے سیاست میں تفریق اور اخراج کے بجائے تمام مکاتبِ فکر کو ساتھ لے کر چلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
نائجیریا کے علاقے ایبونی سینٹرل سے سینیٹ کے امیدوار پروفیسر بینارڈ اوڈوہ نے 2027 کے عام انتخابات کے پیش نظر اپنی انتخابی حکمت عملی اور مستقبل کا لائحہ عمل واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی ترقی کے لیے اب سیاست میں اخراج اور تفریق کے دور کو ختم ہونا چاہیے۔ پروفیسر اوڈوہ کا کہنا ہے کہ ایبونی سینٹرل کے عوام ایک ایسی قیادت کے متلاشی ہیں جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر تمام طبقات کی نمائندگی کر سکے اور حکومتی پالیسیوں میں سب کی شمولیت کو یقینی بنائے۔
اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے زور دیا کہ ماضی کی روایتی سیاست جس میں مخصوص گروہ یا افراد کو حاشیے پر رکھا جاتا رہا ہے، اس نے علاقے کے سماجی و اقتصادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔ پروفیسر اوڈوہ کے مطابق، ان کا ویژن ایک ایسی حکومت قائم کرنا ہے جہاں ہر شہری خود کو فیصلوں کا حصہ سمجھے اور ترقی کے ثمرات بلا امتیاز نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر وہ سینیٹ کے لیے منتخب ہوتے ہیں تو ان کی پہلی ترجیح عوامی مسائل کو براہ راست حل کرنے کے لیے ایک شفاف اور قابل رسائی نظام کا قیام ہوگا۔
پروفیسر اوڈوہ نے مزید کہا کہ سیاست کا اصل مقصد خدمت ہے نہ کہ اقتدار کا حصول۔ انہوں نے ایبونی سینٹرل کے نوجوانوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی آواز کو بااختیار بنانے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر نچلی سطح پر حکمرانی کو بہتر بنایا جائے اور سیاسی عمل میں عوامی شراکت داری کو فروغ دیا جائے تو ایبونی سینٹرل بہت جلد ملک کے ایک ترقی یافتہ اور خوشحال خطے کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو تقسیم کی سیاست کو دفن کر کے اتحاد اور ترقی کی راہ ہموار کر سکے۔
انتخابی مہم کے دوران ان کے اس موقف کو سیاسی حلقوں میں کافی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ پروفیسر اوڈوہ نے روایتی سیاسی بیان بازی سے ہٹ کر عملی مسائل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کا شمولیت پسندانہ حکمرانی کا نعرہ ان ووٹرز کو متاثر کر سکتا ہے جو طویل عرصے سے سیاسی نظام میں تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ان کا یہ ویژن ایبونی سینٹرل کے انتخابی نتائج پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔