Business
کامن ویلتھ بینک: ہوم لون میں نمایاں کمی کی وجوہات اور اثرات
آسٹریلیا کے سب سے بڑے بینک کامن ویلتھ بینک میں ہوم لون کی درخواستوں میں مئی کے بعد سے 15 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس گراوٹ کی بڑی وجوہات شرح سود میں تین بار اضافہ اور وفاقی بجٹ میں ٹیکس کی تبدیلیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔
آسٹریلیا کے سب سے بڑے قرض دہندہ ادارے کامن ویلتھ بینک (CBA) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ہوم لون کی درخواستوں میں مئی کے مہینے کے بعد سے اب تک 15 فیصد کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار معاشی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں، کیونکہ ہوم لون کے شعبے میں اس قدر تیزی سے کمی ہاؤسنگ مارکیٹ میں آنے والی سستی کی غمازی کرتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ رجحان مقامی پراپرٹی مارکیٹ کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اس کمی کی بنیادی وجوہات میں مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں مسلسل تین بار کیا جانے والا اضافہ ہے۔ شرح سود بڑھنے سے رہن کے قرضوں پر بوجھ بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں نے نئے گھر خریدنے یا ہوم لون لینے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی بجٹ میں متعارف کرائی گئی ٹیکس کی نئی ترامیم نے بھی متوسط طبقے کی قوت خرید پر منفی اثر ڈالا ہے، جس کا براہِ راست اثر ہوم لون کی مارکیٹ پر پڑا ہے۔ صارفین اب اپنی مالیاتی ترجیحات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ بڑھتی ہوئی افراط زر اور قرضوں کی اقساط کے بوجھ نے عوام کی استعداد کار کو محدود کر دیا ہے۔
کامن ویلتھ بینک کی جانب سے فراہم کردہ یہ اعداد و شمار آسٹریلیا کی وسیع تر معیشت کی موجودہ صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ بینک نے مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہوم لون میں آنے والی یہ کمی اس بات کا اشارہ ہے کہ شرح سود میں اضافے کے اثرات اب حقیقی معنوں میں عام شہریوں کی زندگیوں تک پہنچ چکے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اگر شرح سود میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے، تو توقع کی جا رہی ہے کہ پراپرٹی کے کاروبار اور بینکنگ سیکٹر کی سرگرمیوں میں مزید سست روی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ حکومت اور مرکزی بینک کی جانب سے ان حالات کو قابو کرنے کے لیے اب محتاط اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔