Technology
پیٹ کے شدید امراض کی فوری تشخیص کیلئے جدید اے آئی ماڈل تیار
طبی ماہرین نے پیٹ کے شدید درد اور ہنگامی طبی صورتحال کی درست تشخیص کیلئے ایبڈامن نیٹ نامی ایک نیا اے آئی ماڈل متعارف کرایا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی نان کنٹراسٹ سی ٹی اسکین کے ذریعے گیارہ مختلف طبی مسائل کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جدید طبی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے 'ایبڈامن نیٹ' (AbdomenNet) نامی ایک جدید فاؤنڈیشن ماڈل تیار کیا ہے، جو پیٹ کے شدید امراض کی تشخیص میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ یہ اے آئی ماڈل خاص طور پر نان کنٹراسٹ کمپیوٹر ٹوموگرافی (سی ٹی اسکین) کے تجزیے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ مریضوں کی فوری اور درست ٹریاج (triage) کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد ایمرجنسی وارڈز میں آنے والے مریضوں کے طبی معائنے کے عمل کو تیز تر اور زیادہ موثر بنانا ہے۔
اس ماڈل کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ پیٹ سے متعلق 11 مختلف ہنگامی طبی حالتوں کی خودکار شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عام طور پر، پیٹ کے شدید درد کے کیسز میں تشخیص کیلئے بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے، لیکن ایبڈامن نیٹ انتہائی تیزی سے ان پیچیدہ کیسز کو الگ کر دیتا ہے جنہیں فوری جراحی یا ہنگامی طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ مریضوں کی جان بچانے کے امکانات میں بھی نمایاں بہترا آتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، یہ ماڈل ریڈیولوجسٹس کی تشخیص کی درستگی کو بھی بہتر بناتا ہے۔ جب ڈاکٹر اس اے آئی ٹول کی مدد لیتے ہیں تو غلطیوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنی رپورٹ تیار کر سکتے ہیں۔ اس جدید نظام کے ذریعے ہنگامی رپورٹس کی فراہمی کا عمل تیز ہو جائے گا، جس سے ہسپتالوں میں مریضوں کے رش اور تشخیص میں ہونے والی تاخیر کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبڈامن نیٹ جیسے فاؤنڈیشن ماڈلز کا استعمال طبی سہولیات کی فراہمی میں ایک نیا معیار قائم کرے گا۔ مستقبل قریب میں امید کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے اے آئی ماڈلز کو دنیا بھر کے ہسپتالوں کے ریڈیولوجی ڈیپارٹمنٹس میں شامل کیا جائے گا تاکہ پیچیدہ امراض کی تشخیص کو پہلے سے زیادہ قابل اعتماد اور تیز تر بنایا جا سکے۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان علاقوں کیلئے انتہائی مفید ثابت ہو گی جہاں ماہر ریڈیولوجسٹس کی کمی کا سامنا ہے۔