LIVE
Loading Breaking News...

کولمبیا میں تباہ کن زلزلہ: ہلاکتیں 250 سے تجاوز، امدادی کارروائیاں جاری

News Image
کولمبیا میں آنے والے شدید زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 250 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کے لیے دن رات مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے اب اہم ترین وقت شروع ہو چکا ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ زندہ بچ جانے والوں کے ملنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
کولمبیا میں آنے والے حالیہ برسوں کے سب سے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی ہے جس کے نتیجے میں اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 250 سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے کے جھٹکے اتنے طاقتور تھے کہ کئی رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور ملبے کے ان ڈھیروں میں بڑی تعداد میں افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو آپریشن کے لیے اب انتہائی اہم اور نازک مرحلہ شروع ہو چکا ہے، کیونکہ ماہرین کے مطابق تباہی کے بعد ابتدائی 72 گھنٹے انسانی زندگی بچانے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ امدادی ٹیمیں، مقامی رضاکار اور فوج کے جوان جدید آلات اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے ملبے کے نیچے زندگی کی علامات تلاش کر رہے ہیں۔ اگرچہ حالات نہایت کٹھن ہیں اور موسمی مشکلات کے ساتھ ساتھ عمارتوں کے مزید گرنے کا خطرہ بھی برقرار ہے، تاہم ریسکیو ٹیموں کی کوششیں کسی معجزے کی منتظر ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران ایک شیر خوار بچے کے ملبے سے بحفاظت نکالے جانے کی خبر نے پوری دنیا کو جذباتی کر دیا ہے، جہاں ملبے تلے سے آنے والی ایک ہلکی سی آواز نے ریسکیو اہلکاروں کو اس معصوم تک پہنچنے میں مدد فراہم کی۔ کولمبیا کی حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور متاثرہ علاقوں میں طبی امداد اور خوراک کی فوری ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری نے بھی کولمبیا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور مختلف ممالک نے ریسکیو آپریشن میں مدد کے لیے اپنی ماہر ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ مقامی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے جہاں زخمیوں کی بڑی تعداد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی ٹیمیں ابھی تک دور دراز اور زیادہ متاثرہ دیہی علاقوں تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکی ہیں۔ زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں بار بار رکاوٹ آ رہی ہے، تاہم ریسکیو حکام کا عزم ہے کہ جب تک آخری فرد کی تلاش مکمل نہیں ہو جاتی، یہ آپریشن جاری رہے گا۔ اس مشکل گھڑی میں پوری قوم متحد ہے اور متاثرین کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔