Business
عالمی منڈی میں تیل اور سونے کے بھاؤ میں تیزی
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جاری صورتحال کے پیش نظر عالمی منڈی میں سونے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کار اب امریکی سی پی آئی کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں جن کا اثر عالمی معاشی رجحانات پر پڑے گا۔
عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات اب براہ راست عالمی منڈیوں پر مرتب ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں خام تیل اور سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ اور خاص طور پر آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات نے سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اگر مزید طول پکڑتی ہے تو توانائی کی عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اس لیے غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد سونے کی خریداری کی طرف متوجہ ہے جس سے اس کی قدر میں استحکام کے بجائے تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
دریں اثناء مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کی نظریں امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والے سی پی آئی (CPI) یعنی صارفین کی قیمتوں کے انڈیکس پر مرکوز ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کے تعین کے حوالے سے یہ اعدادوشمار انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ اگر امریکہ میں افراط زر کی شرح بلند رہتی ہے، تو اس کا براہ راست اثر عالمی مالیاتی منڈیوں اور ڈالر کی قدر پر پڑے گا، جس کے نتیجے میں سونے اور تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات میں تعطل اور دیگر سفارتی مسائل نے بھی عالمی منڈی کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے قبل انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال مزید شدت اختیار کرتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ یہ صورتحال صرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے نہیں بلکہ درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں جہاں ایک طرف تیل کی طلب کم ہونے کے امکانات پر بحث جاری ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے قیمتوں کا اونچی سطح پر برقرار رہنا ایک بڑی حقیقت ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھیں کیونکہ امریکہ کے معاشی اعداد و شمار کے بعد مارکیٹ میں بڑی ہلچل متوقع ہے۔