Business
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، سرمایہ کاروں کا ردعمل
امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے خدشات کم ہونے پر عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کار اب امریکی افراط زر کے تازہ ترین اعداد و شمار کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات کا کم ہونا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمتیں اپنی دس ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ چکی ہیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکہ میں جاری ہونے والے افراط زر (CPI) کے اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار توقعات کے مطابق رہتے ہیں تو توقع کی جا رہی ہے کہ فیڈرل ریزرو اپنی سخت مانیٹری پالیسی میں نرمی لائے گا، جس کا براہِ راست فائدہ سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری کو پہنچ رہا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سونے کی ریلی اس بات کا غماز ہے کہ بازارِ حصص کے شرکاء اب معاشی استحکام کی توقع کر رہے ہیں۔ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بدستور فیڈرل ریزرو کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے، تاہم افراط زر کی شرح میں ممکنہ کمی نے سونے کی خریداری کے رجحان کو تقویت بخشی ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جو سونے کی بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کا یہ دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ہونا سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ وہ غیر یقینی حالات میں سونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
تجارتی ماہرین کا مشورہ ہے کہ موجودہ مارکیٹ کے حالات میں سرمایہ کاروں کو امریکی افراط زر کے سرکاری اعداد و شمار کے اجراء تک محتاط رویہ اپنانا چاہیے۔ اگر افراط زر کی شرح میں نمایاں کمی آتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید استحکام کی توقع کی جا سکتی ہے۔ تاہم، اگر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا تو فیڈرل ریزرو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکتا ہے، جس کا اثر سونے کی قیمتوں پر منفی بھی پڑ سکتا ہے۔ فی الحال عالمی سطح پر سونے کی مانگ میں اضافہ جاری ہے اور عالمی منڈیوں میں اس کی قیمتوں کا گراف ایک مثبت سمت میں گامزن نظر آ رہا ہے۔