Health
این ایچ ایس میں اعضاء کی پیوند کاری کا بحران اور طبی ماہرین کی تشویش
این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ کے میڈیکل ڈائریکٹر نے اعضاء کی پیوند کاری کے منتظر مریضوں کی طویل اور غیر منصفانہ فہرستوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام پر تنقید کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھا رہے۔
برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے ماتحت کام کرنے والے 'این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ' کے میڈیکل ڈائریکٹر نے اعضاء کی پیوند کاری (Organ Transplant) کے منتظر مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور طویل انتظار کے دورانیے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ادارے کے اعلیٰ حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام انتہائی غیر منصفانہ ہے اور مریضوں کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہو جاتی ہے یا وہ اس انتظار میں ہی جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
میڈیکل ڈائریکٹر کی جانب سے سامنے آنے والا یہ بیان این ایچ ایس کی انتظامیہ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام اس مسئلے کی سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہونے کے باوجود اسے حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اعضاء کی پیوند کاری کے لیے انتظار کرنے والے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ ڈونرز کی کمی اور انتظامی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حکمت عملی میں تبدیلی لائی جائے تاکہ ضرورت مند مریضوں کو جلد از جلد علاج کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اس معاملے پر طبی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا این ایچ ایس انتظامیہ مریضوں کی جانیں بچانے کے اپنے بنیادی فرائض میں کوتاہی برت رہی ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتظار کی یہ لمبی فہرستیں محض اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے سینکڑوں خاندانوں کی امیدیں وابستہ ہیں۔ انتظامیہ کو اب اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور علاج کے عمل میں شفاف اور منصفانہ طریقہ کار کو اپنایا جا سکے۔
حکومتی سطح پر بھی اس بیان کے بعد دباؤ بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ این ایچ ایس کے سربراہان کو اب ان الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا اور عوام یہ توقع کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس بحران پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔ مریضوں کی تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پیوند کاری کے منتظر افراد کو ترجیح دی جائے تاکہ ان کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔