LIVE
Loading Breaking News...

ٹینسیسی کا قدامت پسند قصبہ: جہاں ٹرمپ کی حمایت اور دفاعی صنعت لازم و ملزوم ہیں

News Image
ٹینسیسی کے ایک چھوٹے سے امریکی قصبے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کے چرچے عروج پر ہیں جہاں کے مکین کھلم کھلا قدامت پسند نظریات کی حمایت کرتے ہیں۔ اس علاقے میں میزائل سازی کی صنعت سے وابستہ افراد اپنی سیاسی وابستگی کو ملکی دفاع اور ٹرمپ کی پالیسیوں سے جوڑتے ہیں۔
امریکہ کی ریاست ٹینسیسی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں سیاسی فضا ملکی سطح سے بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جہاں ایک طرف ملک بھر میں صدارتی مقبولیت کے گراف میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے، وہیں اس قصبے کے مکینوں کے نزدیک سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت ایک مذہبی فریضے کی طرح مستحکم ہے۔ مقامی آبادی کا ماننا ہے کہ اگر کوئی فرد قدامت پسند نظریات کا حامل نہیں ہے تو اسے ان کی مقامی ثقافت اور سیاسی ماحول میں جگہ بنانے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ یہ قصبہ نہ صرف اپنے سیاسی نظریات کے لیے جانا جاتا ہے بلکہ یہاں کی معیشت کا بڑا دارومدار دفاعی صنعت بالخصوص میزائل سازی پر ہے۔ اس قصبے میں میزائل سازی کی بڑی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور اور انجینئرز ٹرمپ کی پالیسیوں کو اپنے روزگار اور قومی سلامتی کا ضامن قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا 'امریکہ فرسٹ' کا نظریہ نہ صرف صنعتی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر امریکی طاقت کو برقرار رکھنے کا واحد راستہ ہے۔ مقامی رہائشیوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسیاں ان کی روایتی اقدار اور صنعتی فوائد کے لیے خطرہ ہیں۔ یہاں کی فضا میں یہ پیغام واضح ہے کہ قدامت پسندی صرف ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قصبہ ان امریکی علاقوں کی عکاسی کرتا ہے جہاں معاشی استحکام اور سیاسی شناخت ایک دوسرے میں ضم ہو چکے ہیں۔ یہاں کے لوگ بیرونی میڈیا کے تنقیدی بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی سیاسی وفاداریوں پر قائم ہیں۔ میزائل سازی کے کارخانوں کے گرد قائم اس چھوٹی سی کمیونٹی میں یہ تاثر بہت گہرا ہے کہ ٹرمپ کی قیادت ہی وہ واحد طاقت ہے جو ان کے معاشرتی نظام اور ملکی دفاع کو متحد رکھ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی گلیوں اور ورک شاپس میں ٹرمپ کے نام کے نعرے اب بھی گونجتے ہیں اور ان کی حمایت میں کسی قسم کی کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔