LIVE
Loading Breaking News...

جاپان میں انسانی فریج کا بڑھتا ہوا رجحان اور شدید گرمی کا مقابلہ

News Image
جاپان میں بڑھتی ہوئی شدید گرمی کے پیش نظر لوگ خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے نت نئے اور منفرد طریقوں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان طریقوں میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایسی جیکٹس شامل ہیں جنہیں انسانی فریج کا نام دیا جا رہا ہے۔
جاپان میں اس وقت موسم گرما اپنے عروج پر ہے اور شدید گرمی نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کے بعد جاپانی عوام اس گرمی سے بچنے کے لیے جدید اور دلچسپ ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں۔ حال ہی میں ’انسانی فریج‘ کے نام سے ایک نئی ایجاد نے مقبولیت حاصل کی ہے، جو دراصل جدید ٹیکنالوجی سے لیس جیکٹس اور کولنگ ڈیوائسز پر مشتمل ہے۔ یہ آلات جسم کے درجہ حرارت کو کم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور طویل عرصے تک باہر رہنے والے افراد کے لیے ایک بہترین سہارا ثابت ہو رہے ہیں۔ بی بی سی کی ٹوکیو نامہ نگار کرومی موری نے حال ہی میں اس تجربے کا جائزہ لیا اور بتایا کہ کس طرح یہ ٹیکنالوجی لوگوں کو ہیٹ اسٹروک سے بچانے میں معاون ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے پیچھے بنیادی مقصد جسم کے اہم حصوں کو براہ راست ٹھنڈا رکھنا ہے۔ ان جیکٹس میں خصوصی کولنگ پیک یا الیکٹرانک پنکھے نصب ہوتے ہیں جو ہوا کے بہاؤ کو برقرار رکھتے ہوئے پسینے کو خشک کرتے ہیں اور جسم کو ٹھنڈک کا احساس دلاتے ہیں۔ جاپان کے شہری، جو دفاتر یا فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں، اب اپنی روایتی ملبوسات کے ساتھ ان گیجٹس کا استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان میں بڑھتی ہوئی گرمی کے پیش نظر ایسی ٹیکنالوجی کی مانگ میں مزید اضافہ متوقع ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گرمی کی شدت ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ علاوہ ازیں، جاپان کی مارکیٹ میں کئی قسم کے کولنگ آلات متعارف کرائے جا رہے ہیں جن میں گلے میں پہننے والے پورٹیبل کولر اور ٹھنڈے پیڈز شامل ہیں۔ یہ ایجادات نہ صرف آرام دہ ہیں بلکہ توانائی کی بچت میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ شہری انتظامیہ نے بھی عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ شدید دھوپ میں باہر نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ انسانی فریج جیسی ٹیکنالوجی کا مقصد صرف عیش و آرام نہیں، بلکہ انسانی صحت کی حفاظت کرنا ہے تاکہ شدید گرمی کے باعث ہونے والی ہلاکتوں یا بیماریوں کی شرح کو کم کیا جا سکے۔