LIVE
Loading Breaking News...

ایبولا وائرس کا خوفناک پھیلاؤ، عالمی ادارہ صحت کی تشویش

News Image
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس کا موجودہ پھیلاؤ اب تک کا سب سے مہلک ترین ثابت ہو رہا ہے۔ پندرہ مئی کو شروع ہونے والی اس وبا کے نتیجے میں اب تک دو ہزار سے زائد اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے سربراہ نے ایک انتہائی تشویشناک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایبولا وائرس کا موجودہ وبائی پھیلاؤ انسانی تاریخ میں اس وائرس کا اب تک کا سب سے مہلک ترین حملہ ثابت ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ادارے کے مطابق پندرہ مئی کو جب سے اس وبا کے پھوٹنے کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے، تب سے صورتحال تیزی سے سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے صحت کے عالمی نظام کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک کی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایبولا وائرس کے باعث دو ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ متاثرہ کیسز کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کا ماننا ہے کہ بروقت اقدامات اور ویکسینیشن کی عدم دستیابی اس بحران کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے۔ دنیا بھر میں طبی ماہرین اس تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماری پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کر رہے ہیں، تاہم صورتحال پر مکمل قابو پانے کے لیے عالمی برادری کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ ایبولا کے مریضوں میں تیزی سے بڑھتا ہوا شرح اموات طبی عملے کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ہے۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے تاکہ اس وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ عالمی ادارہ صحت اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اگر فوری طور پر بین الاقوامی امداد اور طبی وسائل فراہم نہ کیے گئے، تو یہ وبا ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا سکتی ہے جہاں پہلے ہی صحت کی سہولیات انتہائی محدود ہیں۔ اس کے علاوہ، مقامی حکومتوں کو اپنے متاثرہ علاقوں میں قرنطینہ اور علاج معالجے کے مراکز قائم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے بھی مہمات شروع کی جا رہی ہیں تاکہ لوگ اس بیماری کی علامات کو پہچان سکیں اور بروقت اسپتالوں سے رجوع کر سکیں۔ فی الحال عالمی ادارہ صحت حالات کی نگرانی کر رہا ہے اور دنیا بھر کے ممالک سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خطے کی مالی اور طبی امداد کے لیے آگے بڑھیں۔