LIVE
Loading Breaking News...

زمبابوے لینڈ ریفارم پالیسی: زمینوں کے پرانے تنازعات دوبارہ شروع

News Image
زمبابوے کی نئی زرعی پالیسی نے سن 2000 کے بعد ضبط کی گئی زمینوں کے تنازعات کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے اقدامات سے متاثرہ کاشتکاروں اور حکومتی اداروں کے مابین کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے۔
زمبابوے میں سن 2000 کے بعد شروع ہونے والی زرعی اصلاحات ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں، جہاں حکومت کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائی گئی ایک نئی لینڈ پالیسی نے ملک میں برسوں پرانے تنازعات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت ان زمینوں اور فارمز کے حوالے سے دوبارہ بات چیت اور قانونی چارہ جوئی کا آغاز ہو رہا ہے جنہیں ماضی میں حکومتی اصلاحات کے نام پر ضبط کیا گیا تھا۔ اس پیش رفت نے ایک طرف سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے تو دوسری طرف متاثرہ زمینداروں اور موجودہ قابضین کے مابین کشیدگی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، زمبابوے کی یہ نئی پالیسی ملک میں زرعی پیداوار کو بڑھانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے حکومتی دعووں کا حصہ ہے، تاہم اس کا نفاذ پیچیدہ قانونی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سن 2000 کی دہائی کے اوائل میں زمینوں کی جبری ملکیت کی منتقلی کے بعد سے ہی زمبابوے کو عالمی سطح پر مختلف اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب جبکہ حکومت ایک مرتبہ پھر ان زمینوں کی حیثیت اور ان کے انتظام پر غور کر رہی ہے، تو خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ عمل طویل عدالتی جنگوں اور سماجی بے چینی کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومتی ترجمان کا مؤقف ہے کہ اس نئی پالیسی کا مقصد ملک میں زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور زمین کی تقسیم کو شفاف بنانا ہے، تاکہ خوراک کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔ تاہم، سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام محض پرانے زخموں کو کریدنے کے مترادف ہے اور اس سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ زمبابوے کا کاشتکار طبقہ اس وقت سخت تذبذب کا شکار ہے کیونکہ زمینوں کی ملکیت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاری کے عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ زمبابوے کی حکومت کس طرح ان تنازعات کو حل کرتی ہے اور کیا وہ ماضی کی تلخ یادوں کو پس پشت ڈال کر ایک متوازن زرعی ڈھانچہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو پاتی ہے۔ فی الحال، یہ معاملہ نہ صرف ملکی سیاست بلکہ بین الاقوامی برادری کی نظروں میں بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ زمبابوے کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک زرعی شعبے کی بحالی پر منحصر ہے۔