LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں قومی سلامتی اور اصلاحات کا تجزیہ

News Image
وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر اداروں کی جانب سے قومی سلامتی میں اصلاحات پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ملکی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور مقامی حکومتوں کے کمزور کردار جیسے بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر یہ اصلاحات تشنہ ہیں۔
حال ہی میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے قومی سلامتی کے لیے گہری اصلاحات کے اعلان اور آئی ایس پی آر کی حمایت کے بعد ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے۔ حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے مربوط نظام، شفافیت اور عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ بظاہر یہ اہداف انتہائی خوش آئند اور وقت کی اہم ضرورت معلوم ہوتے ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ رہے ہیں؟ قیام پاکستان کے بعد سے ہر دور میں امن، خوشحالی اور قانون کی حکمرانی کا ذکر تو ہوتا رہا ہے، لیکن عملی طور پر ہم منزل تک پہنچنے کے بجائے ہمیشہ ایک طویل اور پیچیدہ راستے پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ اس صورتحال کا ایک انتہائی اہم پہلو موسمیاتی تبدیلیاں ہیں، جو آج پاکستان کی سلامتی کے لیے کسی بھی بیرونی خطرے یا سیاسی بحران سے زیادہ بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ بدقسمتی سے، ہماری قومی سلامتی کی پالیسیوں میں ماحولیاتی تحفظ کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا وہ متقاضی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سالانہ 56 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری درکار ہے، جو کہ ہمارے دفاعی اور قرضوں کی ادائیگی کے بجٹ سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ جب تک ہم زراعت، پانی کے انتظام اور مقامی انفراسٹرکچر کو مستحکم نہیں کریں گے، تب تک محض روایتی دفاعی حکمت عملیوں سے قومی سلامتی کا تحفظ ممکن نہیں ہوگا۔ اصلاحات کے حوالے سے سب سے بڑی رکاوٹ مقامی حکومتوں کا عدم قیام اور مرکزی سطح پر اختیارات کا ارتکاز ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں تین بار مقامی حکومتیں قائم کی گئیں، لیکن وہ جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کے بجائے محض سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنیں۔ جب تک اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوں گے، ضلعی انتظامیہ موسمیاتی آفات یا دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے موثر ثابت نہیں ہو سکے گی۔ موجودہ نظام میں ترقیاتی فنڈز کو اپنی پسندیدہ حلقوں تک محدود رکھنے کی روایت نے ایک ایسا سیاسی معاشی ڈھانچہ بنا دیا ہے جس میں اصلاحات کے بجائے ذاتی مفادات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر اصلاحاتی ایجنڈا صرف روایتی سلامتی کے گرد گھومتا رہا اور اس نے زمینی حقائق، مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور معاشی اصلاحات کو نظر انداز کیا، تو یہ ایک بار پھر 'دور کی مسافت' بڑھانے کے مترادف ہوگا۔ سیلاب ہوں یا معاشی بحران، ہماری کمزور انتظامیہ نے قوم کو ان اندرونی خطرات سے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے جو سرحدوں کے پار سے آتے ہیں۔ ایک مستحکم پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اصلاحات کا آغاز ان بنیادی مسائل سے کیا جائے جو عام آدمی کی زندگی اور ملک کی معاشی بقا سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔