Politics
آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن اور مستقبل کے چیلنجز
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) برتری حاصل کر چکی ہے، تاہم انتخابات کے دوران تشدد اور دھاندلی کے الزامات نے سیاسی ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلی حکومت کی ساکھ بحال کرنے کے لیے شفافیت اور عوامی مطالبات پر توجہ دینا ناگزیر ہے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے لیے جاری انتخابات کے حتمی مراحل میں پاکستان مسلم لیگ (ن) بظاہر ایک مضبوط اور فاتح پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے، جس کے بعد پارٹی قیادت نے خطے کے لیے مستقبل کے لائحہ عمل اور گورننس پلان پر کام شروع کر دیا ہے۔ تاہم یہ انتخابی عمل مکمل طور پر ہموار نہیں رہا، کیونکہ اس میں تشدد کے واقعات اور پیپلز پارٹی کی جانب سے دھاندلی کے سنگین الزامات نے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔ باغ کے کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پونچھ ڈویژن کے سات حلقوں میں پولنگ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر ملتوی کر دی گئی تھی، جہاں اب ووٹوں کا عمل اگست کے اختتام تک مکمل ہونا متوقع ہے۔
اس انتخابی عمل نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان خلیج کو نمایاں کر دیا ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے شفافیت کو یقینی بنانے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی کامیابی کو یقینی قرار دے رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگلی حکومت کا سربراہ نواز شریف کی مشاورت سے منتخب کیا جائے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ مسلم لیگ (ن) کی برتری واضح ہے، لیکن حکومت سازی کا عمل تب تک مکمل نہیں ہونا چاہیے جب تک تمام حلقوں میں پولنگ کا عمل اختتام پذیر نہ ہو جائے، تاکہ کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کی گنجائش نہ رہے۔
انتخابی عمل کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں پچھلے تین سالوں سے جاری عوامی بے چینی بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے جون کے مہینے میں کافی شدت اختیار کی تھی۔ اگرچہ کچھ مطالبات آئینی نوعیت کے ہیں جنہیں اسمبلی کے فلور پر حل کیا جانا چاہیے، مگر عوامی تحریک کی بنیادی وجہ گڈ گورننس کا فقدان ہے۔ اگر آنے والی نئی حکومت ان جائز مطالبات کو نظر انداز کرتی ہے، تو سیاسی بے چینی برقرار رہنے کا قوی امکان ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عوام کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے کام کیا جائے گا۔
خطے کی حساس نوعیت کے پیش نظر یہ انتہائی اہم ہے کہ انتخابی عمل شفاف ہو تاکہ عوام کی جانب سے نتائج کو عمومی قبولیت حاصل ہو۔ اگر مسلم لیگ (ن) مظفرآباد میں اقتدار سنبھالتی ہے، تو اسے پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں اور پرامن مظاہرین تک رسائی حاصل کرنی ہوگی تاکہ جمہوری انداز میں تمام تحفظات کا ازالہ کیا جا سکے۔ ایک متنازعہ انتخابی عمل اگلی حکومت کی ساکھ کو طویل عرصے تک متاثر کر سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن تمام انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کو یقینی بنائے اور جمہوری عمل کو مضبوط کرے۔