Business
بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری: وکاس پرشاد کا اہم مشورہ
مارک زکربرگ کے ہم جماعت اور سرمایہ کار وکاس پرشاد نے بھارتی اسٹاک مارکیٹ کے حوالے سے اہم تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ قلیل مدتی شور سے ہٹ کر طویل مدتی معاشی ترقی اور اسٹرکچرل تبدیلیوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔
مارک زکربرگ کے ہارورڈ یونیورسٹی کے ہم جماعت اور معروف سرمایہ کار وکاس پرشاد نے بھارتی اسٹاک مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'مہنگی' کے بجائے 'قیمتی' قرار دیا ہے۔ پرشاد، جو تقریباً تین دہائیوں سے بھارتی ایکویٹیز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، کا ماننا ہے کہ سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کے وقتی اور قلیل مدتی اتار چڑھاؤ سے متاثر ہونے کے بجائے طویل مدتی تناظر میں سوچنا چاہیے۔ ان کے مطابق، بھارتی معیشت میں ہونے والی اسٹرکچرل تبدیلیاں اور کمپنیوں کی جانب سے مستقل آمدنی میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ طویل مدت میں یہ مارکیٹ سرمایہ کاروں کے لیے سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔
پرشاد نے زور دیا کہ سرمایہ کاری کے دوران صرف حصص کی قیمتوں کو دیکھنا کافی نہیں ہے، بلکہ سرمایہ کاروں کو کمپنیوں کی 'ریٹرن آن ایکویٹی' (ROE) اور ان کی بنیادی معاشی مضبوطی کا جائزہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہونے والی معاشی اصلاحات اور کاروبار کرنے کے بہتر ہوتے ہوئے ماحول نے طویل مدتی ترقی کے لیے ایک مستحکم بنیاد فراہم کی ہے۔ وہ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ شور و غل اور مارکیٹ کی قیاس آرائیوں سے بچیں اور ایسی کمپنیوں پر توجہ مرکوز کریں جو مسلسل منافع اور ترقی کے امکانات رکھتی ہوں۔
ماہر سرمایہ کار نے مزید کہا کہ جب ہم کسی مارکیٹ کو 'مہنگا' کہتے ہیں تو اکثر ہم اس کی قدر (Valuation) کو موجودہ حالات میں دیکھتے ہیں، لیکن اگر اسی مارکیٹ کو اس کی مستقبل کی ترقی اور معاشی پوٹینشل کے تناظر میں دیکھا جائے تو وہ 'قیمتی' معلوم ہوتی ہے۔ بھارتی مارکیٹ کی یہی وہ خوبی ہے جو اسے دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بناتی ہے۔ پرشاد کا یہ تجزیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی معاشی حالات کے تناظر میں بہت سے سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں، تاہم ان کا اعتماد بھارت کے طویل مدتی معاشی مستقبل کے حوالے سے غیر متزلزل دکھائی دیتا ہے۔
آخر میں، وکاس پرشاد کا موقف یہ ہے کہ کامیاب سرمایہ کاری کے لیے صبر اور نظم و ضبط انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو سرمایہ کار صرف تیزی سے منافع کمانے کے چکر میں مارکیٹ کی گہرائیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، وہ اکثر نقصان اٹھاتے ہیں۔ لہذا، بنیادی اصولوں پر کاربند رہنا اور معاشی اشاریوں کو سمجھنا ہی کسی بھی سرمایہ کار کو طویل مدت میں کامیاب بنا سکتا ہے۔ ان کا یہ تجزیہ ان نئے سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم سبق ہے جو بھارتی مارکیٹ میں داخل ہونے کے خواہشمند ہیں۔