Technology
الیکٹرک گاڑیوں کے ماہرین: پرو-نیٹ کی جانب سے پہلی بار سرٹیفائیڈ ٹیکنیشنز متعارف
پروٹون نیو انرجی ٹیکنالوجی نے ٹی وی ای ٹی مارا کے تعاون سے ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے 37 تربیت یافتہ تکنیکی ماہرین کو سرٹیفکیٹ سے نوازا ہے۔ یہ اقدام الیکٹرک موبلٹی کی جانب منتقلی اور گاڑیوں کی جدید دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
پروٹون نیو انرجی ٹیکنالوجی (Pro-Net) نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اپنے پہلے الیکٹرک وہیکل (EV) تکنیکی ماہرین کے بیچ کو اعزاز سے نوازا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک تقریب میں 25 مجاز ڈیلرشپس سے تعلق رکھنے والے 37 تکنیکی ماہرین کو لیول 2 کی سند دی گئی، جو اس بات کی علامت ہے کہ اب پاکستان اور خطے میں الیکٹرک گاڑیوں کی دیکھ بھال کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت موجود ہے۔ یہ تربیتی پروگرام TVETMARA کے اشتراک سے مکمل کیا گیا جس کا مقصد جدید ترین ای ماس (eMas) گاڑیوں کے لیے ماہرین کی ایک ایسی ٹیم تیار کرنا ہے جو تکنیکی باریکیوں کو سمجھتی ہو۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمپنی کے حکام نے کہا کہ الیکٹرک موبلٹی کی جانب منتقلی محض گاڑیوں کو سڑکوں پر لانے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ایک مستحکم ایکو سسٹم کی ضرورت ہے۔ گاڑیوں کے مالکان کو یہ اطمینان تب ہی مل سکتا ہے جب ان کی گاڑیوں کی دیکھ بھال کے لیے سند یافتہ اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہو۔ پرو-نیٹ کا یہ اقدام ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ سرٹیفائیڈ ٹیکنیشنز کی فراہمی سے نہ صرف کسٹمر سروس کا معیار بہتر ہوگا بلکہ الیکٹرک گاڑیوں پر صارفین کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
تربیتی پروگرام کے دوران ٹیکنیشنز کو بیٹری مینجمنٹ، ہائی وولٹیج سسٹمز، اور الیکٹرک گاڑیوں کے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس سمیت پیچیدہ تکنیکی امور میں تربیت فراہم کی گئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے سالوں میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایسے ماہرین کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوگا جو جدید آلات کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ٹی وی ای ٹی مارا کا اس پروجیکٹ میں تعاون اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مقامی افرادی قوت بین الاقوامی معیار کے مطابق مہارت حاصل کر رہی ہے۔ پرو-نیٹ کا منصوبہ ہے کہ مستقبل قریب میں مزید بیجز کو تربیت فراہم کی جائے تاکہ ملک کے ہر حصے میں ای ماس صارفین کو معیاری سروس میسر آ سکے۔