Business
شپ راکٹ آئی پی او: سبسکرپشن، پرائس بینڈ اور اہم تفصیلات
ای کامرس انیبلمنٹ پلیٹ فارم شپ راکٹ نے اپنے آئی پی او کے لیے 92 سے 97 روپے فی حصص کی قیمت مقرر کی ہے۔ سرمایہ کار بدھ سے جمعہ تک اس پیشکش کے لیے درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔
ای کامرس کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والی معروف کمپنی شپ راکٹ (Shiprocket) کا طویل عرصے سے زیر بحث آئی پی او (IPO) آج بدھ کے روز سرمایہ کاری کے لیے کھل گیا ہے۔ کمپنی اس عوامی پیشکش کے ذریعے 1617.5 کروڑ روپے اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس نے مارکیٹ کے تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ یہ آئی پی او جمعہ کے روز بند ہوگا، جس کے بعد الاٹمنٹ کا عمل شروع کیا جائے گا۔ کمپنی نے اس پیشکش کے لیے 92 سے 97 روپے فی حصص کا پرائس بینڈ مقرر کیا ہے، جو ریٹیل اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم موقع تصور کیا جا رہا ہے۔
شپ راکٹ کا شمار بھارت کے ان چند پلیٹ فارمز میں ہوتا ہے جو ای کامرس کے کاروبار کو جدید ٹیکنالوجی اور لاجسٹک حل فراہم کرتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم کو کاروبار کی توسیع، نئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری اور آپریشنل اخراجات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ای کامرس انڈسٹری میں جاری تیزی کے پیش نظر، شپ راکٹ کی یہ پیشکش کافی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ کمپنی پہلے ہی اپنے لاجسٹک نیٹ ورک کے ذریعے لاکھوں چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بولی لگانے سے پہلے کمپنی کی مالی حیثیت اور پرائس بینڈ کا تفصیلی جائزہ لیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شپ راکٹ کا بزنس ماڈل، جو بنیادی طور پر بی ٹو بی (B2B) اور ای کامرس سپورٹ پر مبنی ہے، طویل مدتی سرمایہ کاری کے لحاظ سے ایک دلچسپ انتخاب ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا رجحان موجود ہے، تاہم نئی کمپنیوں کے آئی پی اوز کے لیے سرمایہ کاروں کا جوش و خروش اب بھی برقرار ہے۔
اس پیشکش میں کوالیفائیڈ انسٹیٹیوشنل بائرز (QIB)، نان انسٹیٹیوشنل انویسٹرز (NII) اور ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے حصص کا الگ الگ کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ کمپنی کی پراسپیکٹس کو غور سے پڑھیں اور اپنی مالی صلاحیت کے مطابق ہی سرمایہ کاری کا فیصلہ کریں۔ شپ راکٹ کی جانب سے یہ اقدام نہ صرف کمپنی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کا ایک ذریعہ ہے بلکہ یہ اسٹاک مارکیٹ میں کمپنی کی ساکھ کو مستحکم کرنے کی جانب بھی ایک بڑا قدم ہے۔