LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین میں قائم فراڈ کال سینٹرز کا یورپی شہریوں کی دولت پر قبضہ

News Image
یوکرین میں قائم منظم کال سینٹرز یورپی ممالک کے ضعیف شہریوں کو اپنا ہدف بنا کر کروڑوں یورو کا فراڈ کر رہے ہیں۔ ان گروہوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے متاثرین کو قانونی کارروائی کا خوف دلا کر لوٹا جا رہا ہے۔
یورپ بھر میں مقیم ریٹائرڈ افراد اور پنشنرز اس وقت ایک ایسے منظم سائبر کرائم کا شکار ہو رہے ہیں جس کے تانے بانے یوکرین میں قائم کال سینٹرز سے ملتے ہیں۔ یہ دھوکہ باز گروہ نہایت مہارت کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں، ایک عام یورپی شہری جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کو محفوظ سمجھتا ہے، ان فراڈیوں کے جال میں بڑی آسانی سے پھنس جاتا ہے۔ یہ گروہ نہ صرف متاثرین کے نام اور دیگر ذاتی معلومات سے واقف ہوتے ہیں بلکہ اپنی زبان اور لہجے پر اس قدر عبور رکھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص ان کی اصلیت پر شک نہیں کر سکتا۔ جب وہ کال کرتے ہیں تو وہ خود کو بینک یا مقامی پولیس کا افسر ظاہر کرتے ہیں، جس سے متاثرہ شخص کا ان پر اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ ان کال سینٹرز کا طریقہ کار انتہائی جدید اور منظم ہے۔ یہ گروہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو قانونی کارروائی یا بینک اکاؤنٹ ہیک ہونے کا خوف دلاتے ہیں۔ اس خوف کے ماحول میں وہ متاثرہ شخص کو قائل کر لیتے ہیں کہ وہ اپنی رقم کو 'محفوظ' بنانے کے لیے فوری طور پر کسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کر دے۔ بدقسمتی سے، وہ رقم منتقل ہوتے ہی مجرموں کے قبضے میں چلی جاتی ہے اور دوبارہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ ان کال سینٹرز نے فراڈ کو ایک انڈسٹری کی شکل دے دی ہے جہاں سینکڑوں نوجوان روزگار کے نام پر ان مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ مسئلہ اب ایک بین الاقوامی چیلنج بن چکا ہے۔ یورپی حکام کی جانب سے عوام کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی نامعلوم کال پر اپنی ذاتی مالی معلومات فراہم نہ کریں اور نہ ہی کسی کے کہنے پر رقم منتقل کریں۔ تاہم، فراڈیوں کے بدلتے ہوئے ہتھکنڈوں کے باعث ان کا سراغ لگانا حکام کے لیے ایک بڑی مشکل بنا ہوا ہے۔ یوکرین کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ نیٹ ورکس اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے نہ صرف معاشی نقصان ہو رہا ہے بلکہ عام شہریوں کا اداروں پر اعتماد بھی متزلزل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے یورپ میں سیکیورٹی اور سائبر کرائم کے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک اب مشترکہ طور پر ان کال سینٹرز کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ ان منظم گروہوں کے نیٹ ورک کو توڑا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک کال کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ بینک اور مقامی پولیس کو مطلع کریں تاکہ اس بڑھتے ہوئے فراڈ کے رجحان پر قابو پایا جا سکے۔