LIVE
Loading Breaking News...

بلاول بھٹو کا بیان: ریاست کو قومی مفاد اور ن لیگ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا

News Image
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھutto زرداری نے مظفرآباد میں ایک ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو اب قومی مفاد اور مسلم لیگ ن کے مفاد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ انہوں نے پولنگ سٹیشنز پر حملوں پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے ہر ایک ووٹ کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا ہے۔
مظفرآباد (نیکسو را نیوز اردو) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھutto زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ایک بڑے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال پر انتہائی سخت مؤقف اپنایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں ریاست کو اب دو ٹوک فیصلہ کرنا ہوگا اور قومی مفاد اور مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مفاد میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ بلاول بھutto کا کہنا تھا کہ ملک کی بقا اور ترقی کے لیے ذاتی یا کسی مخصوص جماعت کے مفادات کو ترجیح دینے کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ خطاب کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے حالیہ انتخابی عمل اور پولنگ سٹیشنز پر ہونے والے حملوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس طرح پولنگ سٹیشنز کو نشانہ بنایا گیا اور جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔ بلاول بھutto نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر ڈٹی رہے گی اور وہ اپنے جیالوں کے ہر ایک ووٹ کی مکمل حفاظت کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق بلاول بھutto کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان بعض امور پر اندرونی کشمکش کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے جلسے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ آئندہ کے سیاسی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے متحرک ہو جائیں۔ ورکرز کنونشن کے اختتام پر پارٹی کارکنان نے بلاول بھutto کے بیان کے حق میں شدید نعرے بازی کی اور پارٹی قیادت کے ساتھ اپنی مکمل وابستگی کا اعادہ کیا۔ بلاول بھutto نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی ملک کے تمام حصوں میں عوام کی حقیقی ترجمانی جاری رکھے گی اور کسی کو بھی عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔