LIVE
Loading Breaking News...

نیوزی لینڈ میں اے آئی فیکٹریوں کے خلاف احتجاج، ڈیٹا سینٹر سمٹ کا گھیراؤ

News Image
نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں ڈیٹا سینٹر لیڈرز سمٹ کے موقع پر مظاہرین نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس فیکٹریوں کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ ملک بھر میں ٹیکنالوجی کے ان مراکز کے قیام کے خلاف اپنی تحریک کو وسیع کریں گے۔
نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں منعقدہ ڈیٹا سینٹر لیڈرز سمٹ کے باہر مظاہرین نے جمع ہو کر مصنوعی ذہانت (AI) کی فیکٹریوں اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا ماننا ہے کہ ان مراکز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ماحول اور مقامی وسائل پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، جس کے باعث انہوں نے اب اس مسئلے کو ملک گیر سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مظاہرین کے ایک ترجمان میک کوئڈ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد صرف آواز اٹھانا نہیں بلکہ ان اداروں کے کام کرنے کے طریقوں پر نظر رکھنا بھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا، تاہم وہ ہر قسم کے پرتشدد واقعات سے گریز کریں گے اور اپنے مطالبات کو پرامن طریقے سے حکام تک پہنچائیں گے۔ اس احتجاج کے دوران مظاہرین نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنے پیغام کو عام کیا ہے۔ انہوں نے اپنے فیس بک پیج کے ذریعے عوامی بیداری مہم کا آغاز کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اے آئی فیکٹریوں کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ رہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی طور پر ٹیکنالوجی کے مخالف نہیں ہیں، لیکن وہ ٹیکنالوجی کے ان بڑے مراکز کی تنصیب میں شفافیت اور ماحولیاتی ذمہ داری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے تحفظات پر کان نہیں دھرے گئے تو وہ نیوزی لینڈ بھر میں اپنی احتجاجی سرگرمیوں کو تیز کریں گے اور متعلقہ اداروں کے دفاتر کے باہر مزید دباؤ ڈالیں گے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ احتجاج نیوزی لینڈ میں بڑھتی ہوئی تکنیکی ترقی اور اس کے سماجی اثرات کے درمیان ایک بڑی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈیٹا سینٹر لیڈرز سمٹ، جس میں عالمی سطح پر تکنیکی ماہرین اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی، اس احتجاج کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار رہی۔ منتظمین کی جانب سے اگرچہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مقامی انتظامیہ نے فی الحال اس صورتحال پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ کیا مستقبل کی ٹیکنالوجی کو مقامی تحفظات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس تحریک کے نتائج کا تعین کرنا اہم ہوگا کیونکہ مظاہرین اب ملک کے دیگر شہروں میں بھی اپنے احتجاج کو وسعت دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔