Business
قومی اسمبلی کمیٹی کا چین کے ساتھ تجارتی خسارے پر تشویش کا اظہار
قومی اسمبلی کی کمیٹی نے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ حکومت نے ایک دہائی پرانے برآمدی ریفنڈز کی مد میں دس ارب روپے ادا کر دیے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان برآمدی اسکیموں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضوابط کو مزید سخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
قومی اسمبلی کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے حال ہی میں چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جو ملک کی اقتصادی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم معاملہ بن چکا ہے۔ کمیٹی کا ماننا ہے کہ اس خسارے کو قابو میں لانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قومی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے برآمد کنندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک دہائی پرانے برآمدی ریفنڈز کی مد میں دس ارب روپے ادا کر دیے ہیں تاکہ صنعتوں کو درپیش مالی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔ اس اقدام سے برآمدی شعبے کو کافی حد تک سہارا ملنے کی توقع کی جا رہی ہے اور تاجروں میں پائے جانے والے تحفظات بھی دور ہوں گے۔ مزید برآں، پاکستان نے ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے کے لیے پینتیس ملین ڈالر سے زائد کے فنڈز منظور کیے ہیں، جس کا مقصد برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ دوسری جانب، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے برآمدی فنانسنگ اسکیموں کے غلط استعمال کو روکنے اور ان کی نگرانی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کے اس قدم کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملنے والی سبسڈی اور فنانسنگ کے فوائد صرف حقدار اور حقیقی برآمد کنندگان تک ہی پہنچیں، جس سے ملک کی مجموعی برآمدات میں پائیدار بنیادوں پر اضافہ ممکن ہو سکے۔