World
یمن حوثی حملہ: تین پاکستانی ملاح جاں بحق، اسلام آباد کا ردعمل
یمن کے قریب حوثی باغیوں کی طرف سے ایک تجارتی جہاز پر کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں تین پاکستانی ملاح جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد میری ٹائم سیکیورٹی کولیشن کے تحت اپنے فرائض بھرپور طریقے سے انجام دے گا۔
یمن کے قریب بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کی طرف سے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین پاکستانی ملاح جاں بحق ہو گئے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور سمندری تجارت کے حوالے سے حفاظتی خدات بڑھ گئے ہیں۔ حملے کا نشانہ بننے والے جہاز پر عملے کے ارکان موجود تھے جن میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ اس افسوسناک واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی اور بحری جہازوں کو درپیش خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ واقعے کے فوری بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کے خاندانوں سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان سمندری حدود میں امن و امان کی بحالی اور تجارتی بحری جہازوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ میری ٹائم سیکیورٹی کولیشن کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورے خلوص اور عزم کے ساتھ نبھائے گی تاکہ بین الاقوامی پانیوں میں سفر کرنے والے مسافروں اور ملاحوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی سطح پر بھی اس حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں نے حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں بلکہ اس سے عالمی سپلائی چین اور سمندری تجارت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے میری ٹائم کولیشن میں فعال کردار ادا کرنے کے اعلان کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ بحیرہ احمر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کیے جائیں گے تاکہ مستقبل میں ایسے حوادث کی روک تھام کی جا سکے۔