World
افغان خواتین کے حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی تشویش
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیوں کے باعث نصف افغان خواتین اب شاذ و نادر ہی اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔ رپورٹ میں تعلیم اور بنیادی حقوق پر قدغن کو افغان معاشرے کے لیے ایک بڑا بحران قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس میں افغانستان میں خواتین کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے عائد کی گئی سخت سماجی اور تعلیمی پابندیوں کے بعد نصف سے زائد افغان خواتین اب شاذ و نادر ہی اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔ یہ پابندیاں خواتین کی نقل و حرکت، روزگار کے مواقع اور تعلیم تک رسائی کو شدید متاثر کر رہی ہیں، جس سے افغان معاشرے میں صنفی امتیاز کی ایک نئی اور تکلیف دہ لہر پیدا ہو گئی ہے۔
تعلیمی شعبے میں صورتحال مزید سنگین ہے، جہاں یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 24 لاکھ لڑکیاں اسکول جانے سے محروم ہیں۔ طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر پابندی نے ایک پوری نسل کے مستقبل کو تاریک کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم تک رسائی نہ ہونے سے افغان خواتین کی معاشی خودمختاری ختم ہو رہی ہے اور وہ طویل مدتی سماجی و اقتصادی بحران کی جانب دھکیلی جا رہی ہیں۔ یہ پابندیاں نہ صرف انفرادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ملکی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہیں۔
عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ افغان طالبان خواتین کے بنیادی حقوق کو بحال کریں اور انہیں تعلیم اور کام کرنے کی آزادی دیں۔ یونیسکو اور دیگر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان لڑکیوں کے حقوق بحال نہ کیے گئے تو اس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ فی الحال، افغانستان میں خواتین کی زندگی انتہائی محدود ہو چکی ہے اور وہ عوامی زندگی کے ہر شعبے سے باہر کر دی گئی ہیں، جس سے ان کی ذہنی صحت اور معاشرتی حیثیت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
موجودہ حالات میں افغان خواتین ایک دوراہے پر کھڑی ہیں، جہاں انہیں نہ صرف بیرونی دباؤ بلکہ اندرونی معاشرتی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔ عالمی ادارے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغان خواتین کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنانا بین الاقوامی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ جب تک خواتین کو معاشرے کا فعال حصہ نہیں بنایا جاتا، افغانستان کے لیے پائیدار امن اور ترقی کا خواب پورا کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔