LIVE
Loading Breaking News...

عالمی اسٹاک مارکیٹ: امریکہ ایران کشیدگی کے اثرات

News Image
وال سٹریٹ کے شیئرز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کی امیدوں کا ختم ہونا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے احتیاط برتنے کی وجہ سے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کے تناظر میں عالمی مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ یعنی وال اسٹریٹ میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں تک دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں کمی اور امن کی جو امیدیں وابستہ کی گئی تھیں، ان کے دم توڑنے کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کا رجحان بڑھ گیا ہے، جس سے مارکیٹ انڈیکس نیچے آ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال براہ راست سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر بھی ایک محتاط رویہ اپنایا جا رہا ہے۔ وال سٹریٹ کی موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار کسی بھی ممکنہ فوجی یا سفارتی بحران کے پیش نظر اپنے اثاثوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مارکیٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خاص طور پر توانائی کے شعبے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں دباؤ دیکھا گیا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے مابین تناؤ کا براہ راست تعلق عالمی تیل کی قیمتوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب بھی مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ ہوتے ہیں، عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں جس کا براہ راست اثر وال سٹریٹ کے انڈیکس پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط انداز اختیار کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر کسی بھی پیش رفت کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار رہتی ہے تو عالمی اسٹاک مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال نے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ فی الحال، مارکیٹ کے شرکاء امریکی حکومتی بیانات اور عالمی طاقتوں کے ردعمل پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، تاکہ کسی بھی متوقع بحران کے اثرات سے بچا جا سکے۔