LIVE
Loading Breaking News...

ناروے کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان: دو طرفہ تعلقات اور تعاون پر بات چیت

News Image
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن باتھ ایڈے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کے دوران پاک ناروے تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف باہمی امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن باتھ ایڈے ایک اہم سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ یہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ناروے کے کسی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ (یورپ) سفیر عائشہ علی نے ان کا استقبال کیا۔ یہ دورہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر کیا گیا ہے جو 13 سے 14 اگست تک جاری رہے گا۔ دفتر خارجہ کے مطابق، اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور ناروے کے درمیان طویل مدتی اور دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے وفود کے درمیان اعلیٰ سطح پر بات چیت متوقع ہے۔ اس مذاکراتی عمل میں دو طرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا، جن میں خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی اور تعلیم کے شعبے سرِفہرست ہیں۔ دونوں وزرائے خارجہ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے تاکہ عالمی چیلنجز کے تناظر میں مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ اس بات چیت سے توقع کی جا رہی ہے کہ معاشی اور سماجی روابط کو مضبوط بنانے کے نئے راستے کھلیں گے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں جاری اعلیٰ سطحی رابطوں کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل مارچ اور اپریل میں اسحاق ڈار اور ایسپن باتھ ایڈے کے درمیان ٹیلی فونک رابطے ہوئے تھے، جبکہ مئی میں ناروے کے اسٹیٹ سیکرٹری آندریس موٹزفیلڈ کراِوک نے بھی اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ ان مسلسل رابطوں کا مقصد پاک ناروے تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے جانا اور ایسے نئے شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے جن سے دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔ یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر اہمیت کا حامل ہے بلکہ اقتصادی و تجارتی لحاظ سے بھی پاکستان کے لیے انتہائی سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔