World
سعودی عرب کی تیل برآمدات پر حوثیوں کے حملوں کا سایہ
یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں حملوں کے خطرات کے پیشِ نظر سعودی عرب کے تیل بردار ٹینکرز نے اپنی ٹریکنگ ڈیوائسز بند کر دی ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی منڈی میں سعودی تیل کی برآمدات کے اعداد و شمار کے بارے میں شدید ابہام پیدا کر دیا ہے۔
بحیرہ احمر میں یمنی حوثی باغیوں کی جانب سے لاحق سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات کی نگرانی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، سعودی عرب سے تیل لے جانے والے ٹینکرز اب 'بلیک آؤٹ' موڈ میں سفر کر رہے ہیں، یعنی انہوں نے حملوں سے بچنے کے لیے اپنی ٹریکنگ ڈیوائسز کو بند کر دیا ہے۔ 20 جولائی کو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے ینبع سے روانہ ہونے والے تقریباً تمام جہاز بغیر کسی ٹریکنگ سگنل کے سفر کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ماہرین کے لیے برآمدات کی درست مقدار کا اندازہ لگانا ناممکن ہو گیا ہے۔
اس صورتحال نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے اعداد و شمار جاری کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ مختلف اینالیٹکس کمپنیوں جیسے ورٹیکسا اور کیپلر کے جاری کردہ اعداد و شمار میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں اور رسد کی پیش گوئی کرنے والے تاجروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، 23 جولائی کے بعد سے سعودی مغربی ساحل سے روانہ ہونے والی تقریباً 70 فیصد کھیپوں کے اے آئی ایس (AIS) ٹریکنگ سگنلز غائب رہے ہیں۔ باب المندب آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو 50 سے گھٹ کر 32 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب، خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ان کی شرائط نہیں مانتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے اور ان کی بحری ناکہ بندی کو 'اسٹیل کی دیوار' قرار دیا جا رہا ہے۔ ان بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان، سعودی عرب اپنی تیل کی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے متبادل راستوں بشمول سوئز کینال اور مصری پائپ لائن کا استعمال بڑھا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثی باغیوں کی جانب سے ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ سعودی حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، لیکن ٹریکنگ سگنلز بند کرنے کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بحیرہ احمر کا خطہ اس وقت انتہائی غیر مستحکم ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری لفظی جنگ اور تہران کا سخت موقف اس پورے خطے کو مزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی کے تحفظ پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔