Pakistan
چاغی میں کان کنوں کا اغوا: بازیابی کے لیے کوششیں جاری
ضلع چاغی کے علاقے ماہیاں کور میں مسلح افراد نے نجی کان کنی کمپنی کے سات ملازمین کو اغوا کر لیا ہے۔ واقعے کے بعد انتظامیہ نے مغویوں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے ماہیاں کور میں بدھ کے روز ایک سنگین واقعہ پیش آیا جہاں مسلح افراد نے ایک نجی کاپر مائننگ کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر کے سات کان کنوں کو اغوا کر لیا۔ مقامی حکام اور کمپنی ذرائع کے مطابق، آٹھ مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر مائن سائٹ پر پہنچے اور وہاں موجود ملازمین کو اسلحہ کے زور پر یرغمال بنا لیا۔ یہ مقام چاغی شہر سے تقریباً 18 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے، جہاں حملہ آوروں نے کئی گھنٹوں تک اپنی کارروائی جاری رکھی۔
اغوا ہونے والے افراد میں گلگت سے تعلق رکھنے والے چار مزدور شامل ہیں جن کی شناخت وجاہت، واجد شاہد اور صابر کے ناموں سے ہوئی ہے، جبکہ دیگر تین مقامی ملازمین کا تعلق ڈالبندین اور ماہیاں کے علاقوں سے ہے جن کے نام ضیاء الدین، شاہ سلیم اور سعید محمد بتائے گئے ہیں۔ حملہ آوروں نے نہ صرف کان کنوں کو یرغمال بنایا بلکہ کیمپ میں موجود سکیورٹی گارڈز سے ان کا اسلحہ بھی چھین لیا۔ ملزمان نے اپنے ساتھ بڑی مقدار میں قیمتی سامان بھی لوٹا جس میں ایک زامیاد ٹرک، ایک فور بائی فور پک اپ گاڑی، 20 سے زائد سولر پینلز، ایک موٹر سائیکل اور کچن کا سامان شامل ہے۔ اس کے علاوہ حملہ آور کیمپ سے 2500 لیٹر ڈیزل اور 1500 لیٹر پیٹرول بھی لے اڑے ہیں۔
حیرت انگیز طور پر حملہ آوروں نے کئی گھنٹوں تک مائن سائٹ پر قیام کیا اور کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر اپنا کام مکمل کر کے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور مغویوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ حملہ آور کس طرف فرار ہوئے ہیں۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق، خبر تحریر کیے جانے تک مغویوں کی بازیابی یا لوٹا گیا سامان برآمد نہیں ہو سکا تھا۔ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سخت سیکورٹی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مائننگ کمپنی کے ذمہ داران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ملازمین کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے تاکہ علاقے میں جاری ترقیاتی و معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔