LIVE
Loading Breaking News...

راولپنڈی فائرنگ: ملزم محمد حسین کا پوسٹ مارٹم اور سیاسی بیان بازی

News Image
راولپنڈی میں سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے ملزم محمد حسین کی لاش کا پوسٹ مارٹم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس واقعے کا ذمہ دار پی ٹی آئی کی قیادت کو ٹھہرایا ہے۔
راولپنڈی کے آر اے بازار کے علاقے میں سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے ملزم کی ہلاکت کے بعد قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق 32 سالہ ملزم محمد حسین کی لاش کا پوسٹ مارٹم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ ملزم کے پاس سے ایک موبائل فون، ایک سیاسی جماعت کا جھنڈا، ٹوپی اور اسلحہ برآمد ہوا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کا تعلق خیبر کے علاقے سے تھا اور تاحال اس کی لاش کو کسی وارث نے کلیم نہیں کیا ہے۔ پولیس برآمد شدہ موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کر رہی ہے تاکہ اس نیٹ ورک اور پس پردہ محرکات تک پہنچا جا سکے۔ اس معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت اس واقعے سے اپنے ہاتھ نہیں جھاڑ سکتی کیونکہ یہ ملزم ان کی تربیت یافتہ سیاسی ذہنیت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملزم ذہنی طور پر غیر مستحکم تھا تو اسے بار بار پی ٹی آئی کے احتجاج کے فرنٹ لائن پر کیوں لایا جاتا رہا؟ طلال چوہدری نے مزید کہا کہ سیاست کا مطلب عوام کی خدمت، تعلیم اور صحت کی سہولیات ہے نہ کہ جلاؤ گھیراؤ یا سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کرنا، جو کہ ملک کے محافظ ہیں۔ وزیر مملکت نے خبردار کیا کہ نفرت اور تشدد کی سیاست ملک کے لیے زہر قاتل ہے اور 11 اگست کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح کارکنوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے 9 مئی کے واقعات اور 26 نومبر کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت سماجی رابطوں کے ذریعے مسلسل نفرت اور تقسیم کو فروغ دے رہی ہے۔ طلال چوہدری نے یقین دلایا کہ حکومت اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر رہی ہے اور جلد ہی مزید حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں گے۔ آخر میں انہوں نے پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا میں اپنی 17 سالہ کارکردگی کا حساب دیں اور عوام کو بتائیں کہ انہوں نے وہاں کیا ترقیاتی کام کیے۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر سیاسی جماعتوں نے اپنی حکمت عملی نہیں بدلی تو ملک میں سیاسی تشدد کا سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے جو قومی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔