LIVE
Loading Breaking News...

جمہوریت، معیشت اور طاقت کا توازن: پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک تجزیہ

News Image
پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت کا دفاع ہمیشہ ایک اہم ضرورت رہا ہے، کیونکہ غیر جمہوری قوتیں اسے کمزور کرنے کے لیے انسانی فطرت کی خود غرضی کا سہارا لیتی ہیں۔ یہ مضمون جمہوریت اور مارکیٹ کے باہمی تعلق اور طاقت کے پھیلاؤ کی ضرورت پر روشنی ڈالتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں ہر دہائی ایک ایسے موڑ پر آتی ہے جہاں جمہوریت کے بہترین طرزِ حکومت ہونے کا دفاع کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ملک میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان جاری کشمکش اس بحث کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ غیر جمہوری قوتیں اکثر جمہوری حکمرانوں کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ ایک 'بے لوث' قیادت ملک کے لیے زیادہ بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ استدلال بنیادی طور پر کمزور ہے کیونکہ سیاسی میدان میں کوئی بھی قیادت مکمل طور پر بے لوث نہیں ہوتی۔ سیاسی طاقت کے متلاشی افراد معاشرے کی طاقتوں کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں، اور غیر جمہوری قوتیں بھی اپنے مخصوص اداروں کی طاقت پر انحصار کرتی ہیں، جسے کسی طور بھی قومی مفاد کے لیے بے لوث اقدام نہیں کہا جا سکتا۔ جمہوریت کا بنیادی فلسفہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ انسان، بالخصوص وہ جو اقتدار کے متلاشی ہوتے ہیں، اپنی فطرت میں خود غرض، مہم جو اور اقتدار کے پیاسے ہو سکتے ہیں۔ ہیملیٹن اور مونٹیسکیو جیسے مفکرین نے نشاندہی کی تھی کہ اقتدار رکھنے والا ہر شخص اس کے غلط استعمال کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے طاقت کو طاقت کے ذریعے قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ جمہوریت اور معاشی مارکیٹ، دونوں کا تصور ایک ہی اصول پر مبنی ہے: یہ انسانی فطرت کی منفی ترغیبات کو ایک منظم نظام کے تحت مشترکہ مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جمہوریت میں اختیارات کی تقسیم، احتساب اور شفافیت کا نظام اسی لیے بنایا گیا ہے تاکہ حکمرانوں کی ذاتی خواہشات کو لگام دی جا سکے اور انہیں اجتماعی فلاح کے دھارے میں لایا جا سکے۔ آج اگر پاکستان میں اختیارات کی کسی حد تک تقسیم موجود ہے تو وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہے۔ اس تقسیم کو کمزور کرنے کی کوششیں دراصل جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ جب ہم جمہوری حکمرانوں کی ناکامیوں پر تنقید کرتے ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ غیر جمہوری ادوار میں احتساب کا کوئی نظام موجود نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں ملک کو طویل المدتی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اختیارات کی مرکزیت کا کوئی بھی تصور، جیسے کہ نئے انتظامی یونٹس بنانا، اگر عوامی مطالبے کے بجائے اوپر سے مسلط کیا جائے تو وہ ملک کے وفاقی ڈھانچے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جمہوریت کو کسی کا ذاتی کھلونا نہیں سمجھا جانا چاہیے، بلکہ اسے ایک مستحکم نظام کے طور پر برقرار رکھنے کی ضرورت ہے جہاں احتساب اور شفافیت ہی اصل طاقت ہوں۔