LIVE
Loading Breaking News...

اینڈی گرین: ہائیڈروجن کار میں نئی تاریخ رقم کر دی گئی

News Image
زمین پر آواز کی رفتار توڑنے والے پہلے برطانوی ڈرائیور اینڈی گرین نے ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑی میں ایک اور عالمی ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ 64 سالہ اینڈی گرین اپنی زندگی میں تیز رفتاری کے کئی سنگ میل عبور کر چکے ہیں۔
برطانیہ کے 64 سالہ سابق رائل ایئر فورس پائلٹ اور دنیا کے تیز ترین ڈرائیوروں میں شمار ہونے والے اینڈی گرین نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی ہے۔ اینڈی گرین، جو اس سے قبل زمین پر آواز کی رفتار توڑنے والے پہلے شخص ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں، نے حال ہی میں ہائیڈروجن سے چلنے والی ایک جدید گاڑی کے ذریعے تیز رفتاری کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کے ذاتی کیریئر میں ایک اور سنہری اضافہ ہے بلکہ ہائیڈروجن ٹیکنالوجی کے مستقبل کے لیے بھی ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اینڈی گرین نے اپنی مہارت اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ہائیڈروجن گاڑی کو انتہائی مشکل اور تیز رفتار حالات میں چلایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارنامہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہائیڈروجن ایندھن نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ یہ انتہائی تیز رفتار گاڑیوں کے لیے بھی ایک قابلِ عمل ذریعہ بن سکتا ہے۔ اینڈی گرین، جو پہلے ہی لینڈ اسپیڈ ریکارڈ کے میدان میں ایک لیجنڈ کا درجہ رکھتے ہیں، نے اس نئے ریکارڈ کے حصول کے لیے طویل عرصے تک تیاری کی تھی۔ ان کی یہ کامیابی جدید انجینئرنگ اور انسانی عزم کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس ریکارڈ کے بعد اینڈی گرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کامیابی پر بہت خوش ہیں اور یہ ان کے لیے ایک نیا چیلنج تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائیڈروجن ٹیکنالوجی میں موجود پوٹینشل کو دنیا کے سامنے لانا ان کا مقصد تھا۔ اس کامیاب تجربے کے بعد، آٹوموٹو انڈسٹری میں ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کی مقبولیت میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اینڈی گرین کی یہ کوشش ثابت کرتی ہے کہ اگر ٹیکنالوجی اور انسانی مہارت کو یکجا کیا جائے تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اینڈی گرین کا شمار دنیا کے ان گنے چنے افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو تیز رفتاری کے نام کر دیا ہے۔ ان کی یہ نئی کامیابی نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں آٹوموبائل کے شوقین افراد کے لیے ایک مثال بن گئی ہے۔ ماہرین اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح ہائیڈروجن انجن کو مزید بہتر بنا کر عام شاہراہوں اور ریسنگ ٹریکس پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کامیاب آزمائش نے بلاشبہ مستقبل کی نقل و حمل کے حوالے سے بحث کو ایک نئی جہت فراہم کی ہے۔