Technology
وائی فائی سگنلز کے ذریعے انسانی شناخت ممکن
محققین نے انکشاف کیا ہے کہ عام وائی فائی سگنلز کو بغیر کیمروں یا سینسرز کے انسانی شناخت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی سے پرائیویسی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
جدید دور میں وائی فائی ہماری زندگیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، لیکن اب یہ ٹیکنالوجی نگرانی کا ایک نیا اور خطرناک ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ عام وائی فائی نیٹ ورکس کسی فرد کی شناخت انتہائی درستگی کے ساتھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کام کے لیے کسی کیمرے، خصوصی سینسرز یا یہاں تک کہ اسمارٹ فون جیسے کسی منسلک ڈیوائس کو اٹھائے رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ محققین نے ثابت کیا ہے کہ وائی فائی ڈیوائسز کے درمیان معمول کے مطابق تبادلہ ہونے والے غیر خفیہ کردہ سگنلز کو استعمال کر کے انسانی جسم کی حرکت اور موجودگی کو ٹریک کرنا ممکن ہو گیا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے پیچھے بنیادی اصول وائی فائی سگنلز کا ریڈیو فریکوئنسی ڈیٹا ہے جو کسی بھی جگہ موجود انسانوں سے ٹکرا کر واپس پلٹتا ہے۔ جب کوئی شخص کمرے میں موجود ہوتا ہے، تو وہ ان سگنلز کے پھیلاؤ میں تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ محققین کی جانب سے تیار کردہ الگورتھمز اس 'چینل اسٹیٹ انفارمیشن' (CSI) کو تحلیل کر کے انسانی جسم کا خاکہ یا حرکات و سکنات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ طریقہ کار اتنا موثر ہے کہ یہ دیوار کے آر پار بھی لوگوں کی شناخت کر سکتا ہے، جو روایتی کیمروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس دریافت نے نہ صرف سیکیورٹی بلکہ انسانی پرائیویسی کے حوالے سے بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وائی فائی کو اس طرح نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا، تو عوامی مقامات اور نجی گھروں میں بھی لوگوں کی رازداری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے کسی صارف کی رضامندی یا کسی خاص ہارڈ ویئر کی تنصیب کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ موجودہ وائی فائی انفراسٹرکچر پر ہی کام کر سکتی ہے۔ دنیا بھر کے سیکیورٹی محققین اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وائی فائی سگنلز کو مزید محفوظ بنایا جائے اور انکرپشن کو بہتر کیا جائے تاکہ نجی ڈیٹا اور انسانی نقل و حرکت کو اس طرح کی غیر قانونی نگرانی سے بچایا جا سکے۔