LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی ٹولز اور انٹرپرائز سیکیورٹی کو لاحق خطرات

News Image
نئی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال نے کارپوریٹ سیکٹر کی سیکیورٹی کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ زیادہ تر چیف سیکیورٹی افسران کو ملازمین کی جانب سے غیر منظور شدہ اے آئی ٹولز کے استعمال پر گہری تشویش ہے۔
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی جس تیزی سے کاروباری اداروں میں داخل ہو رہی ہے، اس نے جہاں کام کی رفتار کو بڑھایا ہے، وہیں سیکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والے ماہرین کے لیے شدید مشکلات بھی کھڑی کر دی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسرز (CISOs) اور چیف ٹیکنالوجی آفیسرز (CTOs) کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تعیناتی کے باعث اگلے ایک سال کے دوران ان کے اداروں کے لیے سائبر حملوں کا خطرہ یا اٹیک سرفیس اوسطاً 14 فیصد تک بڑھ جائے گا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سیکیورٹی کے معیار کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ اداروں کے اندر مصنوعی ذہانت کے استعمال پر مکمل شفافیت کا فقدان ہے۔ تقریباً تمام ہی اداروں کے سربراہان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہیں اس بات کا مکمل ادراک نہیں ہے کہ ان کے نیٹ ورک میں کتنے اور کون سے اے آئی ٹولز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ڈیٹا لیک ہونے اور حساس معلومات کے غیر محفوظ ہاتھوں میں جانے کے خطرات کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ ادارے اپنی سیکیورٹی پالیسیوں کو جدید ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔ مزید برآں، تحقیق سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 90 فیصد سے زائد سیکیورٹی افسران اس بات پر انتہائی پریشان ہیں کہ ان کے ملازمین بغیر کسی رسمی منظوری یا نگرانی کے غیر تصدیق شدہ اے آئی ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں۔ جب ملازمین اپنی روزمرہ کی ذمہ داریوں کے لیے ایسے ٹولز کا استعمال کرتے ہیں جنہیں آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے منظور نہیں کیا ہوتا، تو کمپنی کا پورا ڈیٹا انفراسٹرکچر غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہ 'شیڈو اے آئی' کا رجحان کاروباری اداروں کے لیے سیکیورٹی کا ایک ایسا نیا چیلنج ہے جسے فوری طور پر قابو کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اداروں کو اب مصنوعی ذہانت کے لیے سخت گورننس پالیسیاں مرتب کرنی ہوں گی۔ اگرچہ اے آئی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ایک بہترین ٹول ہے، لیکن اس کی بے لگام تعیناتی کسی بھی بڑے کاروباری ادارے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ کمپنیوں کو ملازمین کے لیے تربیتی سیشنز کا اہتمام کرنا چاہیے اور صرف وہی ٹولز فراہم کرنے چاہئیں جو سیکیورٹی کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔ آنے والے وقت میں وہی ادارے کامیاب ہوں گے جو اے آئی کی رفتار اور سیکیورٹی کے تحفظ کے درمیان ایک متوازن راستہ تلاش کر پائیں گے۔