World
کیرولین لیویٹ کی وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری کے عہدے سے علیحدگی
ڈونلڈ ٹرمپ کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے وائٹ ہاؤس کے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے اس اقدام کے بعد ایکس پر ان کے الوداعی پیغام پر 'مڈ ود اے آئی' لییکل لگنے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
واشنگتن: نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں ان کی پسندیدہ پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق کیرولین لیویٹ جو کہ ماضی میں اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے جانی جاتی تھیں، اب وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری کے منصب پر فائز نہیں رہیں گی۔ اس فیصلے نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں خاصی چہ مگوئیوں کو جنم دیا ہے۔
کیرولین لیویٹ کی جانب سے جاری کردہ الوداعی بیان کے بعد سوشل میڈیا بالخصوص 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ان کے الوداعی پیغام پر 'مڈ ود اے آئی' کا لیبل لگا پایا گیا جس نے مصنوعی ذہانت کے واٹر مارک سے متعلق جاری بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا سیاسی بیانات اور الوداعی پیغامات میں اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال کس حد تک مناسب ہے اور اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں اور قریبی شخصیات کا کہنا ہے کہ کیرولین لیویٹ نے پردے کے پیچھے رہ کر انتہائی شاندار اور محنت طلب کام کیا۔ کیلی این کونوی سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دباؤ کے باوجود میڈیا کے امور کو احسن طریقے سے سنبھالا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان کی جگہ کس نئے چہرے کو اس اہم ترین پریس سیکرٹری کے عہدے پر فائز کرتے ہیں اور آنے والے دنوں میں انتظامیہ کی میڈیا حکمت عملی کیا ہوگی۔