Business
سونے کی قیمتوں میں تیزی، عالمی منڈی میں سونے کی نئی قیمتیں
امریکہ میں افراطِ زر کی شرح میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رحجان نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں نے ایک بار پھر تیزی کا سفر شروع کر دیا ہے اور دھات کی قیمتیں دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر امریکہ میں افراطِ زر (Inflation) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے بعد دیکھنے میں آیا ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں یہ توقع پیدا کر دی ہے کہ فیڈرل ریزرو اب شرح سود میں مزید اضافے سے گریز کرے گا۔ گزشتہ کچھ دنوں سے سونے کی قیمتوں میں جاری اتار چڑھاؤ اب ایک مستحکم تیزی کی جانب گامزن نظر آتا ہے، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب بھی امریکہ میں افراطِ زر کے دباؤ میں کمی آتی ہے، تو امریکی ڈالر کی قدر میں متوقع بہتری کی بجائے سونے جیسے محفوظ اثاثوں میں سرمایہ کاری بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایکس اے یو یو ایس ڈی (XAU/USD) کی قیمتیں اپنے 100 دن کے موونگ ایوریج کے قریب پہنچ کر ایک مضبوط بنیاد بنا چکی ہیں، اور مزید اضافے کے امکانات بدستور برقرار ہیں۔ دوسری جانب، سلور یا چاندی کی قیمتوں میں بھی اسی طرح کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے، جس سے قیمتی دھاتوں کے مجموعی بازار میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔ تاہم ماہرین اس بات پر بھی خبردار کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بدستور فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں ٹھنڈک آئی ہے، لیکن توانائی کے شعبے میں جاری غیر یقینی صورتحال مستقبل میں شرح سود کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں، سرمایہ کار عالمی معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے قدم کو سمجھ سکیں۔ خلاصہ یہ کہ سونے کی قیمتوں میں یہ موجودہ اضافہ نہ صرف امریکی اقتصادی پالیسیوں کا عکس ہے بلکہ یہ سرمایہ کاروں کے بدلتے ہوئے رجحانات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اگر موجودہ رحجان برقرار رہا تو آنے والے ہفتوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید استحکام دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ موجودہ مارکیٹ کے حالات میں سرمایہ کاروں کو احتیاط کے ساتھ فیصلے کرنے چاہئیں، کیونکہ عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی صورتحال اور معاشی ڈیٹا میں معمولی تبدیلی بھی سونے کی قیمتوں میں اچانک تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔