World
یوکرین جنگ پر نوبل انعام یافتہ دمتری موراتوف کا اہم بیان
نوبل انعام یافتہ روسی صحافی دمتری موراتوف نے کہا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن یوکرین کو تباہ تو کر سکتے ہیں لیکن اسے فتح کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ یہ بیان یوکرین جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے پر بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سامنے آیا ہے۔
نوبل امن انعام یافتہ روسی صحافی اور نووایا گزیٹا کے ایڈیٹر ان چیف دمتری موراتوف نے ایک انتہائی اہم انٹرویو میں کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے اب یوکرین میں فتح حاصل کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار اسٹیو روزنبرگ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے موراتوف نے واضح کیا کہ روس اب یوکرین کو مکمل طور پر زیر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور موجودہ حالات میں کریملن کے پاس صرف تباہی پھیلانے کا اختیار باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے کے باوجود، روسی قیادت اپنے فوجی اہداف کے حصول میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
دمتری موراتوف نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ یوکرین کی مزاحمت نے ثابت کر دیا ہے کہ ایک خودمختار قوم کو بندوق کے زور پر نہیں دبایا جا سکتا۔ ان کے مطابق پیوٹن کی حکمت عملی، جس کا مقصد یوکرین کو فتح کرنا تھا، اب اس کے برعکس صرف ملک کو کھنڈر بنانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ موراتوف، جنہیں ان کی صحافتی خدمات اور آزادی اظہار کے لیے نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا، نے روسی حکومتی بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل جنگ نے نہ صرف یوکرین بلکہ خود روس کے مستقبل کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
جنگ کے جاری اثرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل کا واحد راستہ سفارت کاری ہے، تاہم موجودہ حالات میں فریقین کے درمیان کوئی بھی تعمیری مذاکرات ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کے عوام کی ہمت اور ان کا اپنے ملک کے دفاع کے لیے عزم اس بات کا ثبوت ہے کہ روسی افواج اب مزید آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ موراتوف کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی برادری روس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ خونریزی کا سلسلہ بند کیا جا سکے۔
آخر میں، دمتری موراتوف نے خبردار کیا کہ یہ جنگ آنے والی نسلوں کے لیے گہرے زخم چھوڑے گی اور اس کا خمیازہ دونوں ممالک کے شہریوں کو بھگتنا پڑے گا۔ ان کا تجزیہ عالمی مبصرین کے لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ وہ اندرونی روسی نقطہ نظر سے اس جنگ کو ایک ناکام مشن قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ روسی حکومت نے ہمیشہ اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، لیکن موراتوف جیسے ناقدین کا کہنا ہے کہ میدانِ جنگ کی حقیقتیں حکومتی پروپیگنڈے سے بالکل مختلف ہیں اور روس نے اس جنگ کے ذریعے اپنی بین الاقوامی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔