LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ٹیرف پالیسی اور ملکی صنعتوں پر اثرات کا تجزیہ

News Image
امریکی ٹیرف پالیسیوں پر ماہرین نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات سے ملکی پیداواری صلاحیت بڑھنے کے بجائے معاشی مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران ٹیرف کا وسیع استعمال عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) کا استعمال امریکی معاشی پالیسی کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ غیر ملکی مصنوعات پر بھاری ٹیرف لگانے سے ملکی صنعتوں کو تحفظ ملے گا اور مقامی سطح پر پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، اقتصادی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد اس حکمت عملی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیرف دراصل پیداوار بڑھانے کا کوئی پائیدار یا درست ذریعہ نہیں ہیں بلکہ یہ اقدامات الٹا ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹیرف کے نفاذ سے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہ راست اثر مقامی مینوفیکچررز پر پڑتا ہے اور ان کی مصنوعات بین الاقوامی مارکیٹ میں غیر مسابقتی ہو جاتی ہیں۔ مزید برآں، ٹیرف کے باعث تجارتی جنگوں کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دیگر ممالک بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر پابندیاں یا ٹیکس عائد کر دیتے ہیں۔ یہ عمل برآمدات کو شدید متاثر کرتا ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کے بجائے الٹا ملازمتوں میں کمی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی تجارتی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں، اس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو قیمتوں میں اضافے کی صورت میں برداشت کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا استدلال ہے کہ امریکی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے ٹیرف کے بجائے جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، افرادی قوت کی تربیت اور کاروباری ماحول کو آسان بنانا زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ آخر میں، یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عالمی سپلائی چین آج کے دور میں اتنی مربوط ہے کہ کسی ایک ملک کی جانب سے یکطرفہ اقدامات سے پوری دنیا کے معاشی نظام میں خلل پیدا ہو سکتا ہے۔ ٹیرف کے حامی اسے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن معاشی نقطہ نظر سے اس کے طویل مدتی اثرات امریکی صنعت کی مضبوطی کے بجائے اس کی لاگت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ اپنی پیداواری اہداف کو حاصل کرنا چاہتی ہے تو انہیں پروٹیکشن ازم کے بجائے کھلی مارکیٹ اور جدت پر مبنی پالیسیوں کو اپنانا ہوگا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا آنے والے مہینوں میں یہ ٹیرف پالیسیاں امریکی معیشت پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں اور کیا حکومت اپنے موقف پر قائم رہتی ہے یا حکمت عملی میں تبدیلی لاتی ہے۔