LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی خاندانوں کا محاصرہ

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے قصرہ میں صیہونی آباد کاروں کی جانب سے تین فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں میں محصور کر دیا گیا ہے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور مقامی افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے قصرہ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں صیہونی آباد کاروں کے ایک گروہ نے تین فلسطینی خاندانوں کو ان کے اپنے ہی گھروں میں محصور کر کے زندگی اجیرن کر دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق آباد کاروں کی جانب سے نہ صرف گھروں کا محاصرہ کیا گیا ہے بلکہ رہائشیوں کو شدید خوف و ہراس کا شکار بنایا جا رہا ہے جس سے علاقے میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ پورے قصبے کے لوگوں کے لیے تحفظ کا سوال پیدا کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صیہونی آباد کاروں نے مسلح ہو کر فلسطینیوں کے گھروں کا گھیراؤ کیا ہے اور کسی بھی شخص کو باہر نکلنے یا اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ گھروں میں محصور خاندانوں کے پاس خوراک، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسے حالات میں جب دنیا انسانی حقوق کی بات کرتی ہے، مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ایک معمول بن چکی ہے جس پر عالمی برادری کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ مقامی آبادی اپنی مدد آپ کے تحت اور اپنی جان بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہے لیکن طاقتور آباد کاروں کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ واضح رہے کہ قصرہ اور مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے اور ان پر آباد کاروں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت ان علاقوں میں آبادکاری غیر قانونی ہے، لیکن اسرائیلی حکام کی مبینہ حمایت کے باعث یہ عناصر بے خوف ہو کر فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان خاندانوں کا محاصرہ ختم کرایا جائے اور ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اس وقت متاثرہ خاندان اپنے ہی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور انہیں شدید نفسیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔ حکام کی جانب سے فوری کارروائی نہ ہونے کی صورت میں صورتحال کے مزید بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔ مقامی فلسطینی رہنماؤں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مظلوم خاندانوں کی مدد کے لیے آواز بلند کریں تاکہ صیہونی آباد کاروں کی دھونس اور جبر کو روکا جا سکے۔ قصرہ میں جاری یہ محاصرہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ایک تازہ ترین مثال ہے جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔