LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور ناروے کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق

News Image
پاکستان اور ناروے کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران دوطرفہ تعاون کو تمام شعبوں میں فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ نارویجن وزیر خارجہ کا ایک دہائی بعد دورہ پاکستان دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں نئی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور ناروے نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مستحکم بنانے اور سفارتی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن برتھ ایڈے کے دورہ پاکستان کے دوران ہوئی، جو ایک دہائی کے طویل عرصے بعد کسی نارویجن وزیر خارجہ کا اسلام آباد کا پہلا دورہ ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، نارویجن وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی اور خوشگوار تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔ دورے کے ایجنڈے کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں پاکستان اور ناروے کے مابین تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔ مذاکرات میں خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری، قابل تجدید توانائی، موسمیاتی تبدیلی اور تعلیم جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے اور باہمی مفادات کے تحت مختلف شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اہم عالمی مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق، نارویجن وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل مارچ اور اپریل کے مہینوں میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایسپن برتھ ایڈے کے درمیان ٹیلیفونک رابطے ہوئے تھے، جبکہ رواں سال مئی میں ناروے کے سٹیٹ سیکرٹری آندریاس موٹزفیلڈ کراِوک نے بھی اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ ان مسلسل رابطوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفارتی روابط کو مزید فعال بنانا ہے۔ حکومتی حکام کا ماننا ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں اقتصادی اور سماجی شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ دوطرفہ تعلقات کی بنیادیں بھی مزید مستحکم ہوں گی۔