World
امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے حالات پر سینیٹ کی تحقیقات
امریکی سینیٹرز نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود عملے کو درپیش سنگین مسائل اور خراب حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جہاز پر طویل تعیناتی کے باعث خوراک کی قلت، پلمبنگ کے مسائل اور ذہنی صحت کے بحران کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینیٹ کے ارکان نے یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار بحری جہاز پر تعینات عملے کو درپیش تشویشناک صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹ کو لکھے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ بحری جہاز پر موجود بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور عملے کی ذہنی صحت کے حوالے سے مکمل جوابدہی ہونی چاہیے۔ یہ طیارہ بردار جہاز 250 دن سے زائد عرصے سے اپنی ذمہ داریوں پر تعینات ہے، جس میں سے 200 دن سے زائد کا عرصہ عملے نے مسلسل سمندر میں گزارا ہے، جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس طویل تعیناتی کے دوران جہاز پر خوراک کی شدید قلت، پانی کی آلودگی، پلمبنگ کے نظام کی خرابی، اور صفائی کے ناقص انتظامات جیسے مسائل نے عملے کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ سینیٹر روبن گلیگو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ سینیٹ کا ایک وفد فوری طور پر جہاز کا دورہ کرے تاکہ وہاں موجود خطرناک حالات کی براہ راست تحقیقات کی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاز پر 12 سے 16 گھنٹے کی ڈیوٹی کے باوجود اہلکاروں کو نہ تو دن میں کوئی آرام میسر ہے اور نہ ہی بنیادی ضروریاتِ زندگی جیسے صابن اور خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
جہاز پر تعینات پانچ ہزار سے زائد ملاحوں اور میرینز کے اہل خانہ نے بھی نیوی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں میں ان حالات پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، جہاز پر ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی کے واقعات اور عملے کے ارکان کی جانب سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی دھمکیاں انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت واضح کرے کہ ان کے پیارے کب تک اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن نومبر 2025 میں سان ڈیاگو سے روانہ ہوا تھا اور اسے مشرق وسطیٰ کے خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تعینات رکھا گیا ہے۔
امریکی نیوی کی جانب سے اب تک ان الزامات یا مطالبات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف امریکی فوج کی آپریشنل صلاحیتوں پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ ان فوجیوں کے انسانی حقوق کا بھی مسئلہ ہے جو طویل عرصے سے محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ سینیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات کو فوری طور پر بہتر نہ بنایا گیا تو یہ صورتحال مزید سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ عملے کی جسمانی اور ذہنی صحت کا براہ راست تعلق جہاز کی سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے۔