LIVE
Loading Breaking News...

میٹا پر بچوں کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ: سوشل میڈیا کا اہم ترین قانونی ٹرائل

News Image
میٹا کو دنیا بھر میں اربوں صارفین کے باوجود امریکی عدالت میں بچوں کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ قانونی ماہرین اس مقدمے کو سوشل میڈیا انڈسٹری کے لیے تمباکو انڈسٹری جیسا فیصلہ کن لمحہ قرار دے رہے ہیں۔
دنیا بھر میں اربوں صارفین کی حامل ٹیکنالوجی کمپنی میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی) کو اس ہفتے ایک انتہائی اہم قانونی محاذ کا سامنا ہے، جہاں اسے بچوں کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات پر اپنے دفاع میں دلائل پیش کرنے ہوں گے۔ اوکلینڈ، امریکہ میں شروع ہونے والا یہ ٹرائل نہ صرف کمپنی کی ساکھ کے لیے بلکہ مجموعی طور پر سوشل میڈیا انڈسٹری کے مستقبل کے لیے ایک بڑا امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین اور مبصرین اس عدالتی کارروائی کو 'تمباکو انڈسٹری کے لمحے' سے تشبیہ دے رہے ہیں، جس طرح ماضی میں تمباکو کمپنیوں کو ان کی مصنوعات کے صحت پر مضر اثرات کے حوالے سے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی بنیاد امریکی ریاستوں کے ایک وسیع اتحاد کی جانب سے دائر کردہ وہ درخواست ہے جس میں میٹا پر الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ کمپنی کے پلیٹ فارمز نے جان بوجھ کر ایسے فیچرز تیار کیے جو نوعمروں میں لت، ذہنی دباؤ اور دیگر نفسیاتی مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔ مدعیان کا موقف ہے کہ میٹا کے الگورتھمز اس طرح ترتیب دیے گئے ہیں کہ وہ بچوں کو اپنی جانب متوجہ رکھیں، جس کے نتیجے میں ان کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ریاستوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ میٹا کو اپنے پلیٹ فارمز کے منفی اثرات کا علم تھا، اس کے باوجود کمپنی نے منافع کو ترجیح دیتے ہوئے اصلاحی اقدامات نہیں کیے۔ دوسری جانب میٹا کے ترجمانوں کا کہنا ہے کہ کمپنی نوعمروں کی آن لائن حفاظت کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور والدین کو کنٹرول کرنے کے لیے نئے ٹولز متعارف کروائے گئے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ انفرادی اور گروہی سطح پر نوجوانوں کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور اندرونی دستاویزات کمپنی کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔ اگر عدالت میٹا کو قصوروار ٹھہراتی ہے تو یہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں ریگولیشنز کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ ثابت ہوگا، جس کے بعد سوشل میڈیا کمپنیاں اپنی پالیسیوں میں سخت تبدیلیاں لانے پر مجبور ہو جائیں گی۔