Business
ترکیہ کی اہم معدنیات کی پالیسی میں بڑی تبدیلی
ترکیہ حکومت نے ملکی دفاعی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کے لیے اہم معدنیات کی سپلائی یقینی بنانے کی غرض سے دو بین الادارہ جاتی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد درآمدات پر انحصار کم کرکے مقامی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔
ترکیہ نے اپنی دفاعی، توانائی اور ہائی ٹیک صنعتوں کے لیے درکار اہم معدنیات اور خام مال کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک مربوط اور حکمت عملی پر مبنی لائحہ عمل تیار کر لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ترکیہ دو نئی بین الادارہ جاتی باڈیز (interagency bodies) قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جن کا بنیادی کام ملک کے اندر معدنی وسائل کی دریافت اور پیداوار کو منظم کرنا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کو کم کرنا اور ملکی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کو بتدریج ختم کرنا ہے۔
نئے قائم کیے جانے والے ان اداروں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ مختلف سرکاری محکموں کے درمیان رابطے کا کام کریں گے تاکہ معدنیات کے شعبے میں پالیسی سازی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ ترکیہ، جو پہلے ہی دفاعی ٹیکنالوجی اور ڈرون سازی کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے نایاب معدنیات اور خام مال کی بلا تعطل فراہمی ناگزیر ہے۔ ان نئی کمیٹیوں کے قیام سے کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور ضابطہ اخلاق کو آسان بنایا جائے گا۔
اس پالیسی کا ایک اہم مقصد ترکیہ کی صنعتی بنیادوں کو مضبوط کرنا اور عالمی منڈی میں اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان معدنی وسائل کو صحیح طریقے سے بروئے کار لایا گیا تو ترکیہ نہ صرف اپنی اندرونی ضروریات پوری کر سکے گا بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرے گا۔ حکومت کی جانب سے یہ کوششیں ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب دنیا بھر میں تزویراتی معدنیات (strategic minerals) کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے اور ممالک اپنے وسائل کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں ان اداروں کے قیام کے بعد معدنیات کی تلاش کے لیے نئے لائسنسنگ نظام اور تحقیق و ترقی (R&D) کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری دیکھی جائے گی۔ ترکیہ کی یہ حکمت عملی اسے توانائی اور دفاع کے شعبوں میں خود مختار بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس سے طویل مدت میں ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت اس پورے عمل کے دوران ماحولیاتی معیارات اور پائیدار کان کنی کے اصولوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھے گی تاکہ ملکی وسائل کا بہترین استعمال ممکن ہو سکے۔