Technology
جدید آرکیٹیکچرل بیٹری ٹیکنالوجی اور شہری توانائی کا مستقبل
اونٹاریو، کینیڈا میں ماہرین نے ایک ایسی جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کے تحت عمارتوں کے ڈھانچوں کو بڑے پیمانے پر توانائی ذخیرہ کرنے والی بیٹریوں کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔ یہ اقدام ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی توانائی کے بحران سے نمٹنے میں ایک انقلابی سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیاں، مہنگائی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے توانائی کے روایتی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ کی جانب سے مسلسل زور دیا جا رہا ہے کہ عمارتوں کو گرم رکھنے، روشنی فراہم کرنے اور بجلی کی فراہمی کے لیے متبادل اور صاف ستھرے ذرائع استعمال کیے جائیں۔ اسی تناظر میں اونٹاریو، کینیڈا کے انجینئرز اور ماہرین تعمیرات نے ایک ایسے منفرد پروٹوٹائپ پر کام مکمل کر لیا ہے جو عمارتوں کے ڈھانچوں کو ہی ایک دیوہیکل بیٹری میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد شہری علاقوں میں توانائی کے ضیاع کو روکنا اور اسے مؤثر طریقے سے محفوظ کرنا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کی طرح محدود جگہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ آرکیٹیکچرل بیٹری کے اس نظام میں عمارت کی بیرونی دیواروں اور تعمیراتی اجزاء کے اندر توانائی ذخیرہ کرنے والے جدید مادوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ جب شہر میں بجلی کی طلب کم ہوتی ہے، تو یہ عمارتیں خود کار طریقے سے شمسی توانائی یا گرڈ سے حاصل ہونے والی اضافی بجلی کو اپنے ڈھانچے میں جذب کر لیتی ہیں۔ پھر ضرورت پڑنے پر یہی توانائی واپس گرڈ میں شامل کی جا سکتی ہے یا عمارت کی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف مہنگا ہے اور نہ ہی اس کے لیے الگ سے کسی بڑی جگہ کی ضرورت پیش آتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد مستقبل کے شہروں کی تعمیر کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ چونکہ دنیا بھر میں شہر پھیل رہے ہیں اور آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے، توانائی کی طلب بھی اسی تناسب سے بڑھ رہی ہے۔ اگر ہر نئی بننے والی عمارت خود ایک توانائی ذخیرہ کرنے والی مشین بن جائے، تو قومی گرڈ پر بوجھ نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔ کینیڈا میں کیے جانے والے اس تجربے کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے چند برسوں میں اس ٹیکنالوجی کو کمرشل پیمانے پر دنیا بھر میں متعارف کروایا جائے گا، جس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کے عالمی اہداف کو حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔