Technology
مصنوعی ذہانت اور بینکنگ کا مستقبل: آر بی آئی کا اہم پیغام
ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر نے بینکوں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کو صرف ایک تکنیکی خریداری کے بجائے ایک تزویراتی عزم کے طور پر اپنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ادارے اس تبدیلی میں تاخیر کریں گے وہ مستقبل کے مسابقتی میدان میں پیچھے رہ جائیں گے۔
ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر نے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اس موجودہ دہائی کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن تبدیلی ثابت ہوگی۔ جس طرح نوے کی دہائی میں لبرلائزیشن اور دو ہزار کی دہائی میں ڈیجیٹلائزیشن نے معاشی اور کاروباری منظرنامے کو تبدیل کیا تھا، اسی طرح اب مصنوعی ذہانت کا دور شروع ہو چکا ہے۔ گورنر کا ماننا ہے کہ بینکنگ اور مالیاتی اداروں کے لیے یہ ٹیکنالوجی محض ایک آپشن نہیں بلکہ بقا اور ترقی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے ہندوستانی بینکوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے محض ٹیکنالوجی کی خریداری یا آئی ٹی کے چھوٹے پروجیکٹس کے طور پر نہ دیکھیں۔ بلکہ اسے ایک بورڈ ڈرائیون اسٹریٹجک عزم کے طور پر اپنانا ہوگا تاکہ ادارہ جاتی سطح پر اسے بہتر طریقے سے لاگو کیا جا سکے۔ بینکوں کی لیڈرشپ کو چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے انضمام کو اپنی بنیادی کاروباری حکمت عملی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو مالیاتی ادارے اس تکنیکی تبدیلی کو اپنانے میں ہچکچاہٹ یا تاخیر کا مظاہرہ کریں گے، وہ بہت جلد مسابقتی بازار میں پیچھے رہ جائیں گے اور اپنے صارفین کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اے آئی کے استعمال سے نہ صرف آپریشنل کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ ڈیٹا کی سیکیورٹی اور فراڈ کی روک تھام میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ملازمین کو بھی اس نئی ٹیکنالوجی سے لیس کریں اور بنیادی ڈھانچے میں ضروری تبدیلیاں لائیں۔ اس تبدیلی کا مقصد نہ صرف منافع کمانا ہے بلکہ کسٹمر ایکسپیرینس کو بہتر بنانا اور مالیاتی نظام کو زیادہ شفاف اور تیز رفتار بنانا بھی ہے۔ آنے والے وقت میں وہی ادارے کامیاب ہوں گے جو مصنوعی ذہانت کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ مالیاتی دنیا اب مکمل طور پر اے آئی پر مبنی ہونے کی طرف گامزن ہے اور اس پیش رفت سے انکار کسی بھی بڑے ادارے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔